جمشید دستی کو جعلی ڈگری کیس میں 17 سال قید کی سزا سنادی گئی

Sep 22, 2025 | 17:10:PM
جمشید دستی کو جعلی ڈگری کیس میں 17 سال قید کی سزا سنادی گئی
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(عمران مہر)جمشید دستی کو جعلی ڈگری کیس میں 7 1سال قید کی سزا سنا دی گئی، سابق رکن قومی اسمبلی (ایم این اے) جمشید دستی کی بی اے کی جعلی ڈگری کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا۔

فیصلہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملتان کی عدالت میں سنایا گیا، این اے 175 مظفرگڑھ سے منتخب ہونے والے سابق ایم این اے پرالزام تھا کہ انھوں نے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اپنی تعلیمی اسناد جعلی طور پر جمع کروائیں۔

الیکشن کمیشن کی درخواست پر عدالت نے تمام شواہد اوردلائل سننے کے بعد جرم ثابت ہونے پرانہیں سزا سنائی، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملتان علی نواز نے جمشید دستی کو مختلف دفعات کے تحت مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

دفعہ 82 کے تحت 3 سال ، دفعہ 420 کے تحت 2 سال ، دفعہ 468 کے تحت 7 1سال ، 471 کے تحت 2 سال ، دفعہ 200 کے تحت 3 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔

بارہا عدالتی حکم کے باوجود جمشید دستی عدالت میں پیش نا ہوئے تو جمشید دستی کو آج سزا سنائی گئی، الیکشن کمیشن کی جانب سے ایڈوکیٹ مہر حسیب قادر نے فائنل دلائل پیش کیے۔

جمشید دستی کے خلاف الیکشن کمیشن نے جعلی ڈگری کا کیس دائر کر رکھا تھا، جمشید دستی کے خلاف الیکشن کمیشن نے جعلی ڈگری کا استغاثہ دائر کر رکھا تھا۔

استغاثہ کے مطابق جمشید دستی نے 2008 میں مدرسے کی بی اے کی ڈگری پر الیکشن میں حصہ لیا تھا، الیکشن کمیشن کے مطابق سند کا ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے پاس ریکارڈ موجود نہیں، ملزم نے آرٹیکل 62 اور 63 کی خلاف ورزی کی۔

الیکشن کمیشن نے موقف اپنایا کہ حقیقت چھپانے پر نااہل کیا جانا چاہئے، ملزم نے مظفرگڑھ کے حلقہ این اے 178 سے الیکشن میں حصہ لیا، مدرسوں کی ڈگری کاغذات نامزدگی کے ساتھ لف کی تھیں، ان ڈگریوں کا ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل الیکشن کمیشن بھی سپیکر قومی اسمبلی کے ریفرنس پر جمشید دستی کو نااہل قرار دے چکا ہے۔ ان کے خلاف یہ مقدمہ کئی سال سے زیر سماعت تھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ عوامی نمائندوں کا فرض ہے کہ وہ شفافیت کے تقاضے پورے کریں اوراگروہ ایسا نہ کریں تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی, جمشید دستی نے سزا کے فیصلے کو سیاسی انتقام قراردیا ہے۔

اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پرجاری بیان میں انھوں نے کہا کہ ان کے خلاف یہ کارروائی مخالفین کی سازش ہے اور انھیں جان بوجھ کر انتخابی سیاست سے باہر رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے اور اپنی بے گناہی ثابت کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں :سندھ حکومت نے 24 ستمبر کو 14 شہروں میں عام تعطیل کا اعلان کر دیا