وزیر داخلہ نے سی ای او کے الیکٹرک کیخلاف گرفتاری وارنٹ جاری کرنے کا اعلان کر دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(عاجز جمالی) سندھ اسمبلی کے اجلاس میں کے الیکٹرک اور دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی اور مسلسل لوڈشیڈنگ پر اراکین نے شدید احتجاج کیا، اجلاس میں کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کی عدم حاضری پر اراکین نے برہمی کا اظہار کیا جبکہ وزیر داخلہ نے ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کرنے کا اعلان کر دیا۔
اراکین اسمبلی نے کے الیکٹرک کی کارکردگی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ادارہ عوام کے صبر کا امتحان لے رہا ہے، رکن سندھ اسمبلی محمد آصف خان نے کہا کے الیکٹرک بچوں کے مستقبل سے کھیل رہی ہے،آج سی ای او کو بلایا گیا تھا لیکن وہ نہیں آئے ،وہ بار بار غیر حاضر رہتے ہیں،انہوں نے مزید کہا بندرگاہ میرے حلقے میں ہے، لوگ احتجاج پر تیار بیٹھے ہیں، کے الیکٹرک اسرائیل بن چکی ہے اور ہم غزہ کے شہری بن گئے ہیں۔
سپیکر سندھ اسمبلی نے بھی جاری بجلی بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا سکھر میں دو دو دن بجلی بند ہوتی ہے، روہڑی میں آج صبح سے اب تک بجلی نہیں ہے، سیپکو اور حیسکو کے سی ای اوز کو بھی بلایا جائے، اگلی میٹنگ میں میں خود بھی شریک ہوں گا۔
سندھ اسملی کے ایک اور رکن محمد فاروق نے اس موقع پر کہا کہ یہ دوسری بار ہے جب کے الیکٹرک کا سی ای او سندھ اسمبلی میں طلبی کے باوجود نہیں آیا، اگر وہ اگلی بار بھی غیر حاضر رہے تو وارنٹ جاری کیے جائیں، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کے الیکٹرک کا لائسنس منسوخ کرنے کی قرارداد پیش کی جائے جبکہ علی خورشیدی نے حیسکو اور سیپکو کو بدترین بجلی فراہم کنندہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کے الیکٹرک کا سی ای او بات نہیں مانتا تو اس کو اندر کیا جائے،اس کا بندوبست کرنا پڑے گا۔
اس دوران وزیر داخلہ سندھ کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی کو کمزور نہ سمجھا جائے،اراکین اسمبلی نے صبر سے کام لیا ہے لیکن اب دن مقرر کیا جائے، اگر سی ای او نہیں آیا تو ہم گرفتاری وارنٹ جاری کریں گے۔
اجلاس کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ سندھ اسمبلی کا اگلا اجلاس کل سہ پہر 3 بجے دوبارہ طلب کیا جائے گا جس میں بجلی بحران پر مزید بحث جاری رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ اسمبلی میں وزیر داخلہ کے گھر پر حملے کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور