مدارس کی آزادی اور خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، مولانا فضل الرحمان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مدارس کی آزادی اور خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے پھگواڑی مری میں جے یو آئی پنجاب کی جنرل کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ برصغیر پر جب تک علما کرام کی حکومت تھی کوئی فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا، جب سے غیر علما کے ہاتھ آیا مسلسل خون بہہ رہا ہے۔ ان کاکہنا تھا کہ تعلیمی دنیا میں دینی اور دنیاوی کی تقسیم انگریز کی ایجاد ہے،ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت ٹرمپ کیلئے نوبل انعام کی سفارش واپس لے ،ٹرمپ کے ہاتھ سے فلسطینیوں، عراقیوں، افغانوں کا خون رس رہا ہے۔
سربراہ جے یو آئی کاکہناتھا کہ ایران پر حملہ کرکے ٹرمپ نے قومی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی،ہم ایران کی تائید نہ کریں تو کیا اسرائیل کی حمایت کریں،ہم ایران کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔
ان کاکہناتھا کہ ریاست اور سیاست کے درمیان تعلق کو ختم کرنے کی سازش کی جارہی ہے،جے یو آئی سب سے بڑی عوامی قوت ہے اس کا راستہ روکنا عوام کا راستہ روکنا ہے،ملک میں غیر شرعی اور خلاف آئین قانون سازی کی جارہی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم امریکہ کے ساتھ دوستی کے حامی ہیں لیکن غلامی کے حامی نہیں ہیں،امریکہ کے ساتھ تعلقات میں قومی خودمختاری، عوام کے حق حکمرانی اور معاشی آزادی کو برقرار رکھا جائے،گزشتہ تین ماہ میں امریکی وفد تین بار میرے پاس آیا جس کے بعد میں نے ان کی سفارتی تقریب میں شرکت کی۔
ان کا کہناتھا کہ مودی کا دور ختم ہوچکا ہے اب ہندوستان کو سوچنا ہوگا،گزشتہ جنگ مودی پاکستان جنگ تھی، جس میں پاکستان متحد اور مودی تنہا تھا۔
سربراہ جے یو آئی نے کہاکہ ایران پر حملہ چائنا کے معاشی فروغ کو روکنے کی کوشش ہے،خطے میں سب سے زیادہ پاکستان کی معاشی قوت متاثر ہوئی،معاشی توازن یورپ کے بجائے ایشیا کی طرف منتقل ہورہا ہے جو ایشیا کیلئے خوش آئند ہے۔
ان کاکہناتھا کہ جے یو آئی کا کارکن لوکل ایشوز کے بجائے ملکی اور بین الاقوامی مسائل کے حل پر سوچے،بلا تفریق عوام کی خدمت کا جذبہ پیدا کریں اور تمام طبقات تک جماعت کا پیغام پہنچائیں۔