پارلیمان جب چاہے آئین میں ترمیم کر سکتی ہے،شمائلہ رانا

18ویں ترمیم کے ذریعے اختیارات صوبوں کو منتقل کئے گئے، بد قسمتی سے وہ نچلی سطح تک منتقل نہیں ہوئے،حسن مرتضیٰ

Jan 22, 2026 | 22:23:PM
پارلیمان جب چاہے آئین میں ترمیم کر سکتی ہے،شمائلہ رانا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما اور سابق صوبائی وزیر شمائلہ رانا نے کہا کہ حکومت جب چاہے وہ  آئین میں ترمیم  کر سکتی ہے یہ کرنا پارلیمان کا اختیار ہے اور اس پر نا کسی کو اعتراض ہونا چاہیے  نا ہی ہو سکتا ہے ۔

24نیوز کے پروگرام گونج مسعود رضا کے ساتھ میں بات کرتے ہوئے شمائلہ رانا نے کہا کہ خواجہ آصف صاحب کے بیان کو لے کر بہت باتیں ہو رہیں ہیں لیکن ان کی بات کا مطلب تھا کہ تمام اختیارات  18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو منتقل کر دیئے گئے ہیں این ایف سی ایوارڈ ،رقوم کی منتقلی سمیت تمام اختیارات صوبوں کو منتقل کر دیئے گئے اب  جو صوبہ ہے اس کو اتنا خود مختار ہونا چاہیے کہ وہ لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو اسی طرح دہشت گردی کو اور ناگہانی آفات ہیں جیسے سانحہ گل پلازہ ان حالات سے نمٹنے کیلئے اور وہ تمام صوبوں کے لیے بات ہوئی تھی کسی ایک صوبے کے لیے نہیں ۔لیکن آئین میں ترمیم کرنا پارلیمان کا اختیار ہے اور وہ جب چاہے آئین میں ترمیم کر سکتی ہے اس پر نا کسی کو اعتراض ہونا چاہیے  نا ہی ہو سکتا ہے ۔

پروگرام میں شریک پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نعیم حیدر پنجوتھانے کہا کہ اٹھارویں ترمیم میں صوبوں کو اختیارات دیئے گئے تھے اور وفاق کے اختیارات کو محدود کیا گیا تھا تاکہ وفاق اپنے معاملات دیکھے اور صوبوں کو  خود مختاری حاصل ہو، اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں اب اگر یہ چاہتے ہیں کہ 18ویں ترمیم کو ختم کیا جائے تو تحریک انصاف اس کی مخالفت کرے گی جہاں تک سندھ کی بات ہے اور باقی صوبوں کے مسائل کی بات ہے تو اس کا حل یہ نہیں کہ اختیارات واپس وفاق کے سپرد کر دیئے جائیں جب تک قانون پر عمل نہیں ہوگامسائل حل نہیں ہونگے،بلدیاتی اداروں کو اختیارات دینے  چاہیےچاہے  وہ خیبرپختونخوا کی حکومت ہی کیوں نا ہو۔

پروگرام میں شامل پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما حسن مرتضی ٰ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں صدر زرداری نے 18ویں ترمیم کے ذریعے اپنے اختیارات صوبوں کو منتقل کیے ،وسائل کی تقسیم کی ،این ایف سی کے  اختیارات دیے بد قسمتی سے وہ صوبوں سے نچلی سطح تک منتقل نہیں ہوئے حالانکہ پروگرام تو یہ تھا کہ یہ صوبوں سے اضلاع  پھر تحصیل اور یونین کونسل کی سطح تک جاتے ترقی ہوتی لیکن وہ نہیں ہوسکا ،اس نظام کو ٹھیک کرنے کے لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے یہ نہیں ہوسکتا ہے ایک انسانی غلطی کے بدلے ہم سارا نظام ہی لپیٹ دیں  اور وہ  صوبائی خود مختاری جو بڑے عرصے بعد ملی تھی صوبوں کو شناخت ملی صوبوں کو نام ملے تو وہ ساری چیزیں واپس کرنے کے بجائے ہمیں نیشنل ایشوز پر مل کر بیٹھنا چاہیے کسی بھی صوبے کی خود مختاری  کو چھین لینا وفاق کومضبوط نہیں کمزور کرے گا۔

دیگر کیٹیگریز: پاکستان - قومی
ٹیگز: