’پاکستان زندہ باد‘ کہنا بغاوت کے زمرے میں نہیں آتا،بھارتی ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ

Aug 22, 2025 | 17:20:PM
’پاکستان زندہ باد‘ کہنا بغاوت کے زمرے میں نہیں آتا،بھارتی ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)بھارت کے صوبہ ہماچل پردیش کی ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ صرف ’پاکستان زندہ باد‘ کہنا بغاوت کے زمرے میں نہیں آتا۔ جب تک بھارت کے خلاف نفرت یا علیحدگی پسندی کو نہ بھڑکایا جائے، یہ جرم نہیں ہے۔
بھارت کے ایک بڑے اردو اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بار اینڈ بنچ کی رپورٹ کے مطابق ہماچل پردیش ہائی کورٹ نے منگل کو بتایا کہ صرف کسی دوسرے ملک کی تعریف کرنا بغاوت کے زمرے میں نہیں آتا، جب تک اس میں ہندوستان کی مذمت یا علیحدگی پسند جذبات اور تخریبی سرگرمیوں کو بھڑکانے کا عنصر شامل نہ ہو۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ’’اگر کوئی شخص کسی دوسرے ملک کی تعریف کرے اور اپنی مادرِ وطن کی مذمت نہ کرے تو یہ بغاوت کا جرم نہیں بنتا کیونکہ اس سے نہ تو مسلح بغاوت بھڑکتی ہے اور نہ ہی تخریبی یا علیحدگی پسند سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ اس لئے ابتدائی طور پر ملزم کو جرم سے جوڑنے کیلئے کافی مواد موجود نہیں ہے۔ 

ہماچل پردیش  ہائی کورٹ کے جسٹس راکیش کینتھلا نے یہ ریمارکس اُس وقت دیئے جب انہوں نے ایک شخص کو ضمانت دی جس پر وزیر اعظم نریندر مودی کی اے آئی سے تیار کردہ تصویر کے ساتھ ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے الفاظ شیئر کرنے کا الزام تھا۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ اس کیس میں حکومت کے خلاف نفرت یا ناراضی بھڑکانے کا کوئی الزام موجود نہیں۔ عدالت نے کہا کہ ملزم سلیمان کی حراست جاری رکھنے کیلئے خاطر خواہ مواد موجود نہیں ہے۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ دفاع کا مؤقف ہے کہ درخواست گزار کو جھوٹا پھنسایا گیا ہے۔ عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ اس نے 8جون 2025 کو پولیس کے سامنے سرنڈر کیا اور اسی دن گرفتار ہوا۔ استغاثہ کے مطابق درخواست گزار نے وزیر اعظم کی ایک اے آئی سے بنائی گئی تصویر، جس پر’’ `پاکستان زندہ باد‘‘ لکھا ہوا تھا، شیئر کی۔ اس پوسٹ کو اشتعال انگیز اور قومی مفاد کے خلاف قرار دیا گیا۔ تاہم عدالت نے درخواست گزار کی حالت کو مدنظر رکھا۔ 

عدالت نے نوٹ کیا کہ درخواست گزار ایک غریب، ان پڑھ ریڑھی والا ہے جو پھلوں کی ایک چھوٹی ریڑھی چلا کر اپنا گزر بسر کرتا ہے۔ اسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز چلانے کی معلومات یا صلاحیت نہیں۔ اس کا فیس بک اکاؤنٹ اُس کے بیٹے نے بنایا اور مدعی جسے اس کے موبائل فون تک رسائی تھی، اس نے متنازعہ ویڈیو شیئر کی۔ یہ بھی کہا گیا کہ درخواست گزار اور مدعی کے درمیان مالی لین دین موجود تھا، جو شکایت کے پیچھے بدنیتی کی نشاندہی کرتا ہے۔ درخواست گزار، جو گزشتہ24 برسوں سے اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ پاؤنٹا صاحب میں مقیم ہے، کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ بھی نہیں پایا گیا۔ اہم بات یہ ہے کہ عدالت نے زور دیا کہ پولیس پہلے ہی درخواست گزار کا موبائل فون قبضے میں لے چکی ہے اور اسے فرانزک جانچ کیلئے بھیج دیا گیا ہے۔ عدالت نے ضمانت دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار سے مزید حراستی تفتیش کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ8 جون2025ے حراست میں ہے اور اس کی مزید حراست رکھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یاد رہے کہ ملزم سلیمان کو مئی میں سیرمور ضلع کے پاؤنٹا صاحب پولیس نے بھارتیہ نیایا سنہیتا (بی این ایس) کی دفعہ152 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا کیونکہ اس کی پوسٹ کو قومی مفاد کے خلاف اور اشتعال انگیز سمجھا گیا۔ بعد ازاں اس نے8جولائی کو پولیس کے سامنے سرنڈر کیا۔ 

ملزم سلیمان کے وکیل نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ اُن کے موکل کو جھوٹا پھنسا دیا گیا ہےاور چونکہ چارج شیٹ پہلے ہی داخل ہوچکی ہے، اس کی مزید حراست رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ تاہم، ریاست نے کہا کہ اُس وقت ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات کشیدہ تھے اور’’پاکستان زندہ باد‘‘ کا نعرہ ایک ملک دشمن سرگرمی کے مترادف ہے۔ لیکن عدالت نے اس سے اختلاف کیا اور کہا کہ ملزم کو جرم سے جوڑنے کیلئے خاطر خواہ مواد نہیں ہے۔ عدالت نے مزید نوٹ کیا کہ پولیس پہلے ہی الیکٹرانک ڈیوائس قبضے میں لے کر فرانزک جانچ کیلئے بھیج چکی ہے۔ اس مقدمے میں سلیمان کی پیروی ایڈوکیٹ انوبھو چوپڑہ نے کی جبکہ ریاست ہماچل پردیش کی نمائندگی ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل لوکیندر کٹلھیریا اور ڈپٹی ایڈوکیٹ جنرل پرشانت سین، اجیت شرما اور سونی نہ چنہاری نے کی۔ 

یہ بھی پڑھیں:آٹے کی قیمت مزید بڑھ گئی