پاکستان فلم انڈسٹری کاعہدزریں۔ایک جائزہ

جن سٹوڈیوز میں لائٹ ، سٹارٹ ساؤنڈ ، کیمرہ رولنگ اورایکشن کی گونج سُنائی دیتی تھی اب ویرانی اوراُداسی چھائی ہے

Aug 22, 2025 | 15:35:PM
پاکستان فلم انڈسٹری کاعہدزریں۔ایک جائزہ
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24 News
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

( خالد الطاف)ایک دور تھا جب لاہور ایک بہت بڑا فلمی مرکز ہوا کرتا تھا لیکن کراچی میں بھی تین فلم اسٹوڈیوز موجود تھے اور ان اسٹوذیوز میں بڑی تعداد میں معیاری فلمیں بنا کرتی تھیں جبکہ اس معاملے میں ڈھاکہ بھی پیچھے نہیں تھا، وہاں  بنگالی زبان کی فلموں کے علاوہ اردوفلمیں بھی اچھی خاصی تعداد میں بنا کرتی تھیں اور یہ فلمیں اعلیٰ معیار کی بلند ترین سطح کو چھُوتی نظر آتی تھیں خاص طور پر عید کے موقعہ پر تو فلموں کا میلہ یا دنگل لگا ہوتا تھا ،بڑے بڑے بینرز پوسٹرز ، اداکاروں کی بڑی بڑی تصویریں لائٹیں اور رنگ برنگی جھنڈیوں سے سنیما ہال دلہن کی طرح سجائے جاتے تھے ، ریڈیو پر آنے والی نئی فلموں کی پبلیسٹی کی جاتی تھی ،جب ٹی وی شروع ہوا تو نئی فلموں کے ٹریلر ٹی وی پر چلنا شروع ہو گئے تھے ، اخبارات فلموں کے اشتہارات سے بھرے پڑے  ہوتے تھے بعض اوقات ایک ہی فلم کا اشتہار اخبار کے پورے صفحہ پر چھپا نظر آتا تھا ،لوگ بڑے ذوق وشوق سے سنیماؤں کا رخ کیا کرتے تھےاور جب ان سنیماؤں پر پہنچتے تو ہاؤس فُل کا بورڈ اُن کا استقبال کرتا نظرآتا تھا ، پاکستانی  فلموں کے حوالے سے یہ ایک سنہری دور تھا جب سنتوش کمار ، درپن ، علاؤادین ، طالش ، اعجاز ، کمال ، حبیب ، وحید مراد ، محمد علی اور سُدھیر کا راج تھا جبکہ صبیحہ خانم ، مسرت نذیر ، بہار ، نیلو ، شمیم آرا ، یاسمین ، رخسانہ ، دیبا ، شبنم ، رانی اور زیبا مصروف ترین اداکارائیں ہوا کرتی تھیں ۔
 لاہور میں تقریباً آٹھ فلم سٹوڈیوز فنکشنل تھے جہاں فلمیں بنا کرتی تھیں لیکن چار اسٹوڈیوز میں کام زیادہ ہواکرتا تھا اور یہ اسٹوڈیوز تھے شاہ نور ، ایورنیو اور باری اسٹوڈیو یہ تینوں سٹوڈیوز ملتان روڈ پرایک ہی مقام پر واقع تھے یعنی ایک دوسرے کے پڑوسی تھے یا شاید ہیں، ملتان روڈ پر شاہ نور اسٹوڈیو کے سامنے ایک گول چکر تھا جو آخری بس اسٹاپ ہوا کرتا تھا یہاں ڈبل ڈیکر بس آیا کرتی تھا چند ہی سواریاں بس میں ہوتی تھیں ، یہ بس گھوم کر واپس شہر کی طرف لوٹ جاتی تھی  اس بس میں ہم نے کئی مرتبہ سفر کیا تھا ،اُن دنوں یہ شہر سے ہٹ کر ایک سنسان علاقہ ہوا کرتا تھا اور چوتھا بڑا اسٹوڈیو اے ایم اسٹوڈیو جو لاہور کے علاقہ ساندہ میں راوی روڈ کے قریب قائم تھا اس اسٹوڈیو میں فلم رنگو جٹ ، بول بچن اور کئی سال پہلے کی شوٹنگ دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا ،یہ ہماری رہائش گاہ سے زیادہ دور نہیں تھا کھیتوں کے درمیان ہوتے ہوئے کچے راستہ پر پیدل چل کر ہم با آسانی یہاں پہنچ جایا کرتے تھے اسی راستہ پر بیچ میں ایک چھوٹا سا قبرستان پڑتا تھا ، ہمارے میٹرک کے امتحان  میں چند ہفتے باقی  رہ گئے تھے، میں اور میرا ایک دوست مِل کر ایک ساتھ پڑ ھائی کیا کرتے تھے تاکہ امتحان جو سر پر آن کھڑا ہے اِس میں سُرخرو ہو سکیں ، ہمارا شمار ایسے سٹوڈنٹس میں ہوتا تھا جو سارا سال پڑھائی کی طرف توجہ نہیں دیتے تھے جب امتحان کے دن قریب آجاتے تو بھاگ دوڑ شروع ہوجاتی اور دن رات ایک کرد یا کرتے تھے، پڑھائی کی غرض سے ہم دونوں اکثر اس قبرستان میں آجایا کرتے تھے اور ایک درخت پر چڑھ کر آرام سے پوزیشن سنبھال کر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ جاتے اور پڑھائی شروع کردیتے ،ہم ایک دوسرے کو اپنی پڑھائی سے متعلق یاد کی ہوئی چیزیں سناتے اور ڈسکس کیا کرتے تھے یعنی ہم آپس میں ایک دوسرے کے ٹیچر کا کام کیا کرتے تھے ، بڑی پُرسکون اور سنسان جگہ تھی ، چاروں طرف کھیت کھلیان تھے ،کسی قسم کی کوئی ڈسٹربنس نہیں ہوتی تھی، ہلکی ہلکی ٹھنڈی خوشگوار ہوائیں چلتی رہتی تھیں اور پھر کانوں میں رس گھولتی چرند پرند کی چہچہاٹیں پڑھائی کیلئے ایک پُرسکون ماحول مہیا کرتیں تھیں، گھنٹوں گُزر جاتے، وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا تھا ، ایک روز میں اور میرا دوست پڑھائی کی غرض سے اپنی متعین کردہ جگہ پر پہنچے اور حسبِ معمول درخت پر چڑھ گئے چند ہی منٹ گُزرے ہوں گے کہ میرے دوست نے میری توجہ دور کھیتوں میں کچھ لوگوں کی طرف مبذول کرائی، ہمیں تجسس ہوا کہ یہ لوگ وہاں کیا کررہے ہیں ،اس سے پہلے تو کبھی کسی کو نہیں دیکھا ، ہم سے رہا نہیں گیا ، ہم نے وہاں جاکر معلوم کرنے کا فیصلہ کیا کہ پتہ تو چلے وہاں ہو کیا رہا ہے  ،ہم دونوں درخت سے نیچے اُترے اور تھوڑی ہی دیر میں وہاں پہنچ گئے ،وہاں پہنچ کر دیکھا کہ کسی پنجابی فلم کی شوٹنگچل رہی ہے ، کسی سے پوچھنے پر فلم کے نام کا پتہ چلا یہ فلم تھی ’’قول قرار‘‘ اداکارہ فردوس پر ایک گانا فلمایا جارہا تھا بالکل اُسی طرح جیسے فلموں میں ہیروئن کو کھیتوں میں ناچتے گاتے دکھایا جاتا ہے، فردوس سفید چمکدار پنجابی فلموں کے لباس میں کسی پری یا حور کی مانند بہت ہی حسین لگ رہی تھی، قریب ہی ایک درخت کے نیچے سائے میں چارپائی پر اداکار اعجاز گہری نیند سوےؔ ہوئے تھے، ایسا لگتا تھا جیسے ساری رات کے جاگے ہوئے ہوں، اسی درخت کے دوسری طرف فولڈایبل کرسیوں پر اداکار شاہد ٹی وی ایکٹریس عطیہ شرف کے ساتھ مصروفِ گفتگو تھے حالانکہ اِن دونوں کا فلم سے کوئی تعلق نہیں تھا پھر بھی نہ جانے وہ دونوں وہاں کیا کررہے تھے ، عطیہ شرف کو تو میں پہچان گیا تھا کیونکہ اُن کو ٹی وی پر دیکھا تھا اور وہ اکثر مسعود اختر کے ساتھ نظر آتی تھیں لیکن شاہد کی اس وقت تک کوئی فلم ریلیز نہیں ہوئی تھی اور میں اس کا نام تک نہیں جانتا تھا ،میں اس ہیرو نما ہینڈسم نوجوان کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ فلم بنانے والوں کو اِسے فلم میں ہیرو لینا چاہئے ،بعد میں جب اُس کی پہلی ریلیز ہونے والی فلم’’ آنسو ‘‘دیکھی تو پتہ چلا کہ اس کا نام شاہد ہے اور یہ وہی شخص ہے جس کو میں نے فلم ’’قول قرار‘‘ کی شوٹنگ کے دوران عطیہ شرف کے ساتھ باتیں کرتے دیکھا تھا ۔

یہ بھی پڑھیں:جسوندر سنگھ بھلہ: پنجابی مزاح کا ایک درخشاں ستارہ ڈوب گیا
 اُس دن فلم شوٹنگ کی وجہ سے ہماری پڑھائی نہیں ہو سکی تھی اور پھر فردوس جیسی الہڑ مُٹیار سامنے ہو تو . لیکن پھر بھی دسویں کا امتحان بہت اچھے نمبروں سے پاس کرکے ہم دونوں ہی کامیاب ہو گئے تھے ۔
سنیماؤں کی طرح اب یہ سارے سٹوڈیوز بھی تاریخ کے کسی کونے میں دفن ہو کر غائب ہو چکے ہیں یا ویران ہو کر موہنجوداڑو کے کھنڈرات کانقشہ پیش کررہے ہیں ،اب اِن اسٹوڈیوز میں لائٹ ، سٹارٹ ساؤنڈ ، کیمرہ رولنگ اورایکشن کی گونج سُنائی نہیں دیتی ،اب ان سٹوڈیوز میں ویرانی، خاموشی اور اُداسی  چھائی رہتی ہے، یقین ہی نہیں آتا کہ یہ وہ ہی جگہ ہے جہاں کبھی لالہ سُدھیر اورسلطان راہی چنگھاڑتے نظر آتے تھے اور محمدعلی کی گرجدار آواز دور دور تک سُنائی دیتی تھی ۔
جانے والے تیرے قدموں کے نشاں باقی ہیں …۔