بریسٹ فیڈنگ نہ کرانے سے معیشت پر بوجھ بڑھ رہا ہے، وزیرمملکت برائےصحت

Oct 21, 2025 | 21:17:PM
بریسٹ فیڈنگ نہ کرانے سے معیشت پر بوجھ بڑھ رہا ہے، وزیرمملکت برائےصحت
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ کا کہنا ہے کہ ماں کا دودھ ہی بچوں کے لیے بہترین ہے، بریسٹ فیڈنگ نہ کرانے سے معیشت   پر   بوجھ بڑھ رہا ہے۔

اسلام آباد میں  منعقدہ سیمینار  سے خطاب کرتے ہوئے وزیرمملکت  برائےصحت ڈاکٹر مختاربھرتھ کا کہنا تھا  کہ  ملک میں بچوں کی افزائش کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہے ہیں، ماں کا دودھ ہی بچوں کے لیے بہترین ہے۔

 ڈاکٹر مختاربھرتھ کا کہنا تھا کہ  پارلیمنٹیرین کوبھی اس متعلق آگاہی دینےکی ضرورت ہے،بریسٹ فیڈنگ پرقانون سازی موجود ہے جس پرعملدرآمد کرا رہے ہیں، اسلام آباد سمیت ملک بھر میں خواتین کوآگاہی دی جائےگی۔

ان کا کہنا تھا کہ بریسٹ فیڈنگ نہ کرانے سے معیشت پر بوجھ بڑھ رہا ہے، حکومت بریسٹ فیڈنگ پرمؤثر قانون سازی کرےگی۔
خیال رہے کہ  ڈبے کا دودھ صرف ماں سے محروم بچے کی ضرورت ہے لیکن فارمولا دودھ پر اربوں روپے غیر ضروری خرچ کیے جاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً 60 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں لیکن ان میں سے صرف 2 ہزار سے بھی کم نوزائیدہ ایسے ہوتے ہیں جنہیں ماں کے دودھ کے بجائے متبادل دودھ کی حقیقی طبی ضرورت ہوتی ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق یہ وہ بچے ہوتے ہیں جن کی مائیں زچگی کے دوران انتقال کر جائیں، شدید بیماری میں مبتلا ہوں یا جنہیں نایاب میٹابولک امراض لاحق ہوں۔

یہ بھی پڑھیں :  بالوں کا سفید ہونا ممکنہ طور پر کینسر سے تحفظ فراہم کرتا ہے: تحقیق