پاکستان اور بھارت دونوں آپس میں باہمی تعاون سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں؛ماچے پریسارسکی
Stay tuned with 24 News HD Android App
( انور عباس) پاکستان میں پولینڈ کے سفیر ماچے پریسارسکی نے کہا ہے کہ امریکہ ایران تنازع میں پاکستان کا ثالثانہ کردار انتہائی اہم ہے ہم پاکستان کے ثالثی کے کردار کو سراہتے ہیں اور مذاکرات کو کامیاب ہوتے دیکھنا چاہیں گے، پاکستان اور بھارت آپس میں زیادہ باہمی تعاون سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں دونوں کے درمیان کافی پیچیدہ معاملات موجود ہیں تاہم پھر بھی کم از کم امن و سفارت کاری اور مذاکرات کو ہی ان تعلقات کے راہنماء اصول ہونا چاہئے.
نیشنل پریس کلب میں میٹ دی پریس پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں پولش سفیر ماچے پریسارسکی نے کہا ہے کہ امریکہ ایران تنازع میں پاکستان کا ثالثانہ کردار انتہائی اہم ہے ہم پاکستان کے ثالثی کے کردار کو سراہتے ہیں چند ہی ممالک ایسے ہیں جن کے تنازع کے دونوں فریقین سے تعلقات ہیں اور یہ دونوں فریقین کی جانب سے اعتماد کی عکاسی ہے تحفظات کے باوجود دونوں فریقین کا اعتماد خوش آئند ہے ہم ان مذاکرات کو کامیاب ہوتے دیکھنا چاہیں گے کیونکہ قیام امن انتہائی ضروری ہے.
ایک سوال کے جواب میں ماچے پریسارسکی نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں ممالک آپس میں زیادہ باہمی تعاون سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں کیونکہ ہمارا تجربہ ہے کہ ایک ملک ایک بڑے علاقائی تعاون اور باہم منسلکی کی عدم موجودگی میں اس سے مستفید نہیں ہو سکتا اور یہ پولینڈ کا اپنا تجربہ ہے ،ہماری خواہش ہے کہ نہ صرف ان دونوں ممالک بلکہ خطے کے مفاد میں پاکستان اور بھارت میں تعلقات میں بہتری آئے ہم سمجھتے ہیں، دونوں کے درمیان کافی پیچیدہ معاملات موجود ہیں تاہم پھر بھی کم از کم امن و سفارت کاری اور مذاکرات کو ہی ان تعلقات کے راہنماء اصول ہونا چاہئے۔
پولش سفیر کا کہنا تھا کہ پولش پاکستان تعلقات گرمجوش اور دوستانہ ہیں خطے مین امن و استحکام پاکستان اور دنیا بھر کے لئے اہم ہے انہوں نے واضح کیا کہ پولش پاکستان تجارت بلندی کی جانب بہتر ٹریجیکٹری پر گامزن ہیں پاک پولش تجارت کا حجم 1.3 ارب امریکی ڈالرز تک پہنچ چکا ہے عوامی رابطوں، تھنک ٹینک، اور ثقافتی تبادلوں پر کام کر رہے ہیں پاکستان اور پولینڈ اپنے اپنے خطوں میں استحکام کے حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات میں کوویڈ سے اپنے والے تعطل کے بعد بحالی پر کام کر رہے ہیں۔
پولش وزیر خارجہ نے حالیہ دورہ پاکستان میں بیلارس کی سرحدوں سے غیرقانونی تارکین وطن کی یورپ نقل و حرکت پر تحفظات کا اظہار کیا اس پر پاکستان سے کھلے مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا ہے دورے میں باہمی سیاسی مشاورت کا آغاز کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : صمود فلوٹیلا کےگرفتار 428 ارکان اسرائیلی فورسز کی قیدسےرہا ہو گئے