پبلک سیکٹر میں کالا موتیا کے جدید لیزر علاج کا پہلا مرکز
لاہورجنرل ہسپتال کومخیر حضرات نے دو جدید لیزر مشینیں عطیہ کیں،عالمی معیار کا علاج میسر آئے گا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)لاہورجنرل ہسپتال پبلک سیکٹر میں کالا موتیا(گلوکوما) کے جدید لیزر علاج کا پہلا مرکز بن گیا۔
ہسپتال کے شعبہ امراضِ چشم کو مخیر شخصیات کی جانب سے دو جدید لیزر مشینیں عطیہ کی گئی ہیں جن کا باقاعدہ افتتاح پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج و پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل نے ایک تقریب میں کیا۔
پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دکھی انسانیت کی خدمت کرنے والے مخیر حضرات معاشرے کا حقیقی اثاثہ ہیں،ان کے تعاون سے مریضوں کو اب عالمی معیار کا علاج میسر آئے گا۔ماڈرن ٹیکنالوجی کی بدولت نہ صرف مریضوں کا علاج کیا جائے گا بلکہ نوجوان ڈاکٹروں کو لیول فور کی تربیت بھی دی جائے گی تاکہ ملک بھر میں گلوکوما کے مریضوں کو بہترین طبی خدمات فراہم کی جا سکیں۔
شعبہ امراض چشم کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر طیبہ گل ملک نے بتایا کہ کالا موتیا کی 100 سے زائد اقسام ہیں،روایتی طور پر مریضوں کو مہنگے آئی ڈراپس طویل عرصے تک استعمال کرنے پڑتے تھے مگر اب ان جدید لیزر مشینوں کی بدولت مریضوں کو ڈراپس کے مسلسل استعمال سے نجات مل جائے گی اور بینائی کو محفوظ بنانا ممکن ہو گا۔
انہوں نے کالا موتیا کو بینائی کا خاموش چور قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ابتدائی مراحل میں اس کی علامات واضح نہیں ہوتیں اس لیے بروقت تشخیص بہت ضروری ہے،گلوکوما کی اہم علامات میں سر میں مسلسل درد یا بھاری پن، آنکھوں میں درد یا دباؤ کا احساس، نظر کا دھندلا ہونا، سائیڈ ویژن کا کم ہونا اور روشنی کے گرد رنگین حلقے یعنیHalosنظر آنا شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ساندہ میں پتنگ کی ڈور پھرنے سے شہری زخمی
انہوں نے مشورہ دیا کہ 40 سال سے زائد عمر کے افراد خصوصاً جن کے خاندان میں گلوکوما کی ہسٹری ہو، وہ باقاعدگی سے آنکھوں کا مکمل معائنہ یعنی پردے کا معائنہ اور آئی پریشر چیک کروائیں۔
افتتاحی تقریب کے اختتام پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل نے شعبہ امراضِ چشم کی ٹیم کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور مشینیں عطیہ کرنے والی مخیر شخصیات کا شکریہ ادا کیا،اس موقع پر ہسپتال کی سینئر فیکلٹی، انتظامی ڈاکٹرز اور ہیلتھ پروفیشنلز بھی موجود تھے۔