پائیدار ترقی کے اہداف کے نفاذ کیلئےعالمی مالیاتی نظام میں گہری اصلاحات ناگزیر ہیں،اسحاق ڈار
چیلنجز کے باوجودپاکستان پائیدار ترقی کے ایجنڈے پر پُرعزم, وزیرخارجہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(انور عباس) وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پائیدار ترقی کے اہداف( ایس ڈی جی) کے نفاذ کے لیے عالمی مالیاتی نظام میں گہری اصلاحات ناگزیر ہیں,ترقی پذیر ممالک کو رعایتی اور گرانٹ پر مبنی وسائل تک وسیع رسائی کی ضرورت ہے۔
اقوامِ متحدہ اعلیٰ سطح سیاسی فورم (HLPF) کے مباحثے میں وزیر خارجہ اسحاق ڈارنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2030 تک صرف 5 سال باقی ہیں،اس وقت صرف 35 فیصد پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) درست سمت میں ہیں,عالمی وبا، خوراک، ایندھن اور مالیاتی بحرانوں کے مشترکہ اثرات، اور موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات نے ترقی کے ثمرات کو پلٹ دیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ترقی پذیر ممالک کو رعایتی اور گرانٹ پر مبنی وسائل تک وسیع رسائی کی ضرورت ہے،بامعنی قرضوں میں ریلیف، اور موسمیاتی فنانس میں اضافہ درکار ہے تاکہ وہ پائیدار ترقی کے اہداف کی مالی ضروریات کو پورا کر سکیں۔
وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں کہاکہ ان ثمرات کو بڑی مشکل سے حاصل کیا گیا تھا,عدم مساوات کو مزید گہرا کر دیا ہے,ان چیلنجوں کے باوجود پاکستان 2030 کے ایجنڈے کے حصول کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے،ہماری قومی ترقیاتی حکمت عملیاں، بشمول اُڑان پاکستان پائیدار ترقی کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں، ہماری سماجی تحفظ کی سکیمیں یقینی بنانے کے لیے ترتیب دی گئی ہیں کہ کوئی بھی پیچھے نہ رہ جائے،ان سکیموں میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور بینظیر نشوونما (بچوں کی نشوونما کے پروگرام) شامل ہیں,نوجوانوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے، ہم نے ڈیجیٹل یوتھ حب کا آغاز کیا ہے,دانش سکولوں اور نئی جامعات کے کیمپسز کے ذریعے معیاری تعلیم تک رسائی کو وسعت دے رہے ہیں،ہم موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات کو بڑھا رہے ہیں،اس میں 2030 تک 60 فیصد قابلِ تجدید توانائی کا ہدف شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریچارج پاکستان اور لیونگ انڈس جیسے اقدامات کے ذریعے ہماری مزاحمتی صلاحیت کو مضبوط کیا جا رہا ہے،ہمارا نیا قومی سطح پر مقرر کردہ موسمیاتی وعدہ (NDC) آخری مراحل میں ہے،ہم نے مالیاتی استحکام کے لیے کلیدی معاشی اصلاحات متعارف کرائی ہیں،ہم نے سرمایہ کاری کے لیے ماحول کو مزید سازگار بنایا ہے، علاوہ ازیں، ایس آئی ایف سی ترجیحی شعبوں میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دے رہی ہےاگرچہ قومی سطح کی کوششیں اہم ہیں لیکن یہ تنہا کافی نہیں ہو سکتیں۔
اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ چوتھی عالمی کانفرنس برائے مالیاتی ترقی میں منظور کردہ کمپرومیسو ڈی سیویل ایک واضح روڈ میپ فراہم کرتا ہے,اس پر عمل درآمد میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے,ہم اقوامِ متحدہ کے قیام کی 80ویں سالگرہ منا رہے ہیں،سیکرٹری جنرل کا UN80 اقدام ہمیں ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے،ہم اقوامِ متحدہ کے تین ستونوں کو مضبوط بنانے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے بروقت حصول کے لیے اپنی اجتماعی وابستگی کو ازسرنو اجاگر کریں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ مستعفی