گھریلو تشدد کرنیوالے افراد اکثر ذہنی بیماریوں اورمسائل کا شکار ہوتے ہیں:ڈاکٹر رفیق ڈار

 نفسیاتی مسائل کو سنجیدگی سے لینے اور بروقت علاج کرانے کی ضرورت ہے،’’مارننگ ودفضا‘‘میں گفتگو

Jul 21, 2025 | 16:18:PM
 گھریلو تشدد کرنیوالے افراد اکثر ذہنی بیماریوں اورمسائل کا شکار ہوتے ہیں:ڈاکٹر رفیق ڈار
کیپشن: ماہرنفسیات ڈاکٹر رفیق ڈار’’مارننگ ودفضا‘‘میں میزبان فضاعلی کے ساتھ گفتگوکرتے ہوئے
سورس: 24 News
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ گھریلو تشدد کرنے والے افراد اکثر مخصوص ذہنی بیماریوں یا شخصیت کے مسائل کا شکار ہوتے ہیں،ایسے افراد کو عموماً چار اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے، سائیکوپیتھ(Psychopath)، نارسیسٹ (Narcissist)، میکیاولیئن (Machiavellian) اور سیڈسٹ (Sadist)۔
معروف نیورو سائیکالوجسٹ ڈاکٹر رفیق ڈارنے ’’مارننگ وِد فضا ‘‘میں میزبان فضاعلی کے ساتھ گفتگوکرتے ہوئے   کہاکہ ان افراد میں دوسروں پر مکمل کنٹرول رکھنے، انہیں ذہنی یا جسمانی اذیت دینے اور اپنے غصے کو قابو میں نہ رکھنے کی شدید خواہش پائی جاتی ہے۔


نیورو سائیکالوجسٹ ڈاکٹر رفیق ڈارنے میزبان فضاعلی کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایسے افراد خصوصاً اس وقت زیادہ خطرناک رویہ اختیار کرتے ہیں جب وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کا اختیار یا کنٹرول کم ہو رہا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں:کلاؤڈ برسٹ چند منٹوں میں شہر کے شہر ڈبو سکتا ہے:ماہرِ موسمیات حمیرا قاسم خان
 ڈاکٹر رفیق ڈار نے بتایا کہ گھریلو تشدد کرنے والے اکثر مرد غصے اور طاقت کے عدم توازن کا شکار ہوتے ہیں، اور یہی عدم توازن انہیں اپنے قریبی افراد  خاص طور پر بیویوں پر جسمانی و ذہنی تشدد کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ کچھ مرد اپنی بیویوں کو صرف جسمانی اذیت نہیں دیتے بلکہ طویل المدت ذہنی دباؤ اور اذیت کا بھی شکار بناتے ہیں، جس کے اثرات نہایت سنگین اور دیرپا ہو سکتے ہیں۔ 
ڈاکٹر رفیق ڈار نے کہا کہ یہ جارحانہ رویہ دراصل ایک نفسیاتی مسئلہ ہے جسے سنجیدگی سے لینے اور اس کا بروقت علاج کرانے کی ضرورت ہے، اس علاج کے لیے تھراپی اور فیملی کونسلنگ جیسے جدید سائنسی طریقے نہایت مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ چونکہ اکثر خواتین صبر اور برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاموش رہتی ہیں اس لیے تشدد کا یہ دائرہ مزید بڑھتا چلا جاتا ہے جو نہ صرف ان کی ذہنی صحت بلکہ خاندانی ماحول کے لیے بھی نقصان دہ ہوتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر بروقت مداخلت کی جائے اور جارحانہ رویے کو سنجیدگی سے لیا جائے تو نہ صرف متاثرہ افراد کی زندگی بہتر بنائی جا سکتی ہے بلکہ ایک پرامن اور صحت مند خاندانی نظام کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔