شام میں بعث انقلاب کے بانی رفعت الاسد انتقال کر گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) شام کے سابق صدر حافظ الاسد کے بھائی اور معزول صدر بشار الاسد کے چچا رفعت الاسد قضائے الٰہی سے انتقال کر گئے۔
بشار الاسد کے چچا اور سابق صدر حافظ الاسد کے بھائی رفعت الاسد 88 برس کے تھے اور علیل تھے۔ وہ کچھ عرصہ سے متحدہ عرب امارات میں مقیم تھے۔
فیملی ذرائع نے بتایا کہ رفعت الاسد کا انتقال متحدہ عرب امارات میں ہوا۔العربیہ نیوز نے رائٹرز کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ رفعت الاسد کو 1982 میں حما شہر میں اخوان المسلمون کی بغاوت کو کچلنے والی فوجی کارروائی کا مرکزی کردار سمجھا جاتا رہا۔
رفعت الاسد سابق فوجی افسر تھے ، وہ 1970 میں اپنے بڑے بھائی حافظ الاسد کے ساتھ مل کر فوجی بغاوت میں بھی شریک تھے۔ اس بغاوت کے نتیجے میں شام میں پرانے بادشاہی نظام کا خاتمہ ہوا اور بعث پارٹی کی حکومت بنی جو گزشتہ سال تک برقرار رہی۔ حافظ الاسد کی حکومت میں رفعت الاسد نے ایلیٹ فورسز کی کمان سنبھالی۔ رفعت الاسد اپنے بڑے بھائی حافظ الاسد کی حکومت کا ابتدائی 14 سال تک بڑا سہارا رہے۔
شام کے نائب صدر
رفعت الاسد کو مارچ 1984 میں اپنے بھائی کے ساتھ اقتدار کی کش مکش کے دوران ایک سمجھوتہ کے بعد تین نائب صدروں میں سے ایک نائب صدر مقرر کیا گیا تھا، یہ اعزاز برائے نام 1998 تک ان کے ساتھ رہا۔
بعث پارٹی کی علاقائی کمان کے رکن
رفعت الاسد نے 1975 سے 1998 تک پارٹی کے اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارے میں خدمات انجام دیں۔
آئینی عدالت کے صدر
انہوں نے 1975 سے شروع ہونے والے اس اعلیٰ سطحی عدالتی کردار کی مختصر وقت کے لئے قیادت کی بعد میں دیگر اہم کاموں میں مصروف ہو گئے۔
اہم تاریخی واقعات؛ حما کا کریک ڈاؤن
1982 حما کے کریک ڈاؤن میں اخوان المسلمین کے بہت سے کارکن مارے گئے تھے۔ رفعت پر ان فورسز کی کمانڈ کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے جنہوں نے حما شہر میں اخوان المسلمون کی بغاوت کو کچل دیا تھا۔ فوجی آپریشن کے نتیجے میں ہزاروں لوگ مارے گئے جنہیں بعث پارٹی کے مخالف 10,000 سے 40,000 تک بتاتے ہیں۔ اس مسلح جنگ میں حما شہر کا بیشتر حصہ تباہ ہو گیا۔
خود بغاوت کی کوشش
1984 میں رفعت نے خود کی بغاوت کی کوشش کی تھی جو کامیاب نہین ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ 1983 کے آخر میں جب حافظ الاسد بیمار ہو گئے تو رفعت نے دمشق کو گھیرے میں لے کر اپنی وفادار فوج کے دستوں کو تعینات کر کے اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ ایک کشیدہ تعطل کے بعد، رفعت ناکام ہو گئے اور حافظ الاسد نے انہیں شام سے باہر بھیج دیا۔
بعد میں زندگی اور وفات
منی لانڈرنگ کے الزام میں فرانس میں قید کی سزا سے بچنے کے لیے اکتوبر 2021 میں شام واپس آنے سے پہلے رفعت 36 سال تک یورپی جلاوطنی میں رہے۔ وہ اسد حکومت کے خاتمے کے بعد دسمبر 2024 میں دوبارہ شام سے فرار ہو گئے اور 20 جنوری 2026 کو متحدہ عرب امارات میں 88 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔
سنہ 2000 میں حافظ الاسد کی وفات کے بعد بعث پارٹی نے بشار الاسد کو ملک کے سربراہ کے عہدہ کے لئے چنا تو رفعت الاسد نے اقتدار اپنے بھتیجے بشار الاسد کو منتقل کیے جانے کی مخالفت کی اور خود کو شام کا جائز جانشین قرار دیا تھا، تاہم یہ چیلنج عملی طور پر بے اثر ثابت ہوا اور وہ برسوں تک دمشق سے دور رہے۔
یہ بھی پڑھیئے: انگلینڈ گرین لینڈ پر نہیں جھکے گا، پرائم منسٹر سٹارمر اور اپوزیشن لیڈر بیڈینوک ڈٹ گئے
ی ہبھی پڑھیں : پاکستان یا میزبان؟ انڈر19ورلڈ کپ میں آگے کون جائے گا، گھر کون جاےگا؟ فیصلہ کی گھڑی کل شام!