پی آئی اے میں 9 ارب 43 کروڑ کی مفت، رعایتی ٹکٹوں کی بندربانٹ کا انکشاف

Sep 20, 2025 | 18:54:PM
پی آئی اے میں 9 ارب 43 کروڑ کی مفت، رعایتی ٹکٹوں کی بندربانٹ کا انکشاف
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(طیب سیف)خسارے کا شکار قومی ائیر لائن پی آئی اے میں مفت اور رعایتی ٹکٹوں کی بندر بانٹ کا انکشاف ہوا ہے، قومی خزانے کوصرف 6سالوں میں مفت اور رعایتی ٹکٹوں کی مد میں 9ارب 43کروڑ روپے کا خسارہ ہوا۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق 6 سالوں کے دوران 2 لاکھ 58 ہزار سے زائد مفت ٹکٹس دیئے گئے ہیں، 1 لاکھ 16 ہزار سے زائد ٹکٹس 95 فیصد رعایت پر دیئے گئے ہیں۔

مفت اور رعایتی ٹکٹس 2011 سے 2016 کے درمیان دیئے گئے،2011 میں 58 ہزار 861 اور 2012 میں 51 ہزار 692 مفت ٹکٹس دیئے گئے۔

2013 میں 56ہزار815 اور 2014 میں 43ہزار 77 مفت ٹکٹس دیئے گئے، 2015  میں 21 ہزار 816 اور 2016 میں 26 ہزار729  مفت ٹکٹس دیئے گئے ہیں۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے مطابق 1 لاکھ 16 ہزار سے زائد ٹکٹس پر 95 فیصد رعایت ایسے افراد کو دی گئی جو پی آئی اے کے ملازم بھی نہیں تھے، کرایوں میں رعایت چیئرمین یا ایم ڈی کی منظوری کے بغیر دی گئی۔

متعدد یاد دہانیوں کے بعد 2023 تک معاملے پر میٹنگ نہ بلائیں گئی، آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے مفت ٹکٹوں کی پالیسی کو فوری ختم کرنے کی سفارش کر دی۔

ترجمان پی آئی اے نے بتایا کہ 2018 سے سپریم کورٹ کے حکم نامے کے بعد مفت ٹکٹس بالکل بند ہیں، مذکورہ ٹکٹس ایجنٹ انسینٹو اسکیم کے تحت ٹریول ایجنٹس کو زیادہ سیلز کی غیب دینے کیلئے جاری کئے گئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ آڈٹ پیرا 9 سال پرانا ہے اور ان پر ڈی اے سی کا اجلاس متعلقہ وزارت بلاتی رہتی ہے، اتنے پرانے آڈٹ پیرا کو دوبارہ اُٹھایا جانا کسی خاص حلقے کی جانب سے دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔

یہ بھی پڑھیں :چوہدری شجاعت پاکستان باڈی بلڈنگ فیڈریشن کے چیئرمین منتخب