پینک اٹیک وقتی کیفیت ہوتی ہے،خطرناک بیماری نہیں: ڈاکٹر علی اجمل
لوگ اسے ہارٹ اٹیک سمجھ کر خوفزدہ ہو جاتے ہیں ،معروف ماہرنفسیات کی مارننگ ودفضامیں گفتگو
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز )معروف ماہر نفسیات ڈاکٹر علی اجمل نے’’مارننگ ودفضا‘‘میں گفتگوکرتے ہوئے پینک اٹیک کی وجوہات اورعلامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاہے کہ یہ حقیقت میں جسمانی طور پر نقصان دہ نہیں ہوتا۔
24نیوزکے پروگرام ’’مارننگ وِد فضا‘‘ میں میزبان فضاعلی سے گفتگو کرتے ہوئے ماہر نفسیات ڈاکٹر علی اجمل نے کہا کہ اکثر لوگ پینک اٹیک کو ہارٹ اٹیک سمجھ کر خوفزدہ ہو جاتے ہیں اور ایمرجنسی میں پہنچ جاتے ہیں، پینک اٹیک ایک ایسی حالت ہے جس میں اچانک سانس اکھڑنے لگتا ہے، دل یا سینے پر دباؤ محسوس ہوتا ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے سانس رک رہا ہو، سینے میں سوئیاں چبھنے جیسا درد، ہاتھ پاؤں کانپنا، اور پسینے آنا بھی اس کی عام علامات ہیں ۔
یہ بھی پڑھیں:سونے کی قیمتیں مزیدنیچے آگئیں،فی تولہ کتنے کاہوگیا؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ پینک اٹیک اصل میں انگزائٹی، خوف اور ذہنی دباؤ کا نتیجہ ہوتا ہے، جب دماغ کا سٹریس جسم پر اثر انداز ہوتا ہے، اگرچہ اس دوران دل کی دھڑکن بہت تیز ہو جاتی ہے اور مریض کو لگتا ہے کہ وہ بچ نہیں پائے گا، لیکن حقیقت میں پینک اٹیک جسمانی طور پر نقصان دہ نہیں ہوتا ۔
ماہر نفسیات ڈاکٹر علی اجمل نے مزیدکہاکہ پینک اٹیک کی صورت میں خود کو پرسکون رکھیں اور یاد رکھیں کہ یہ وقتی کیفیت ہے، خطرناک بیماری نہیں۔