امریکہ میں ٹک ٹاک پر پابندی 90 دن کےلیے مؤخر

Jun 20, 2025 | 10:18:AM
امریکہ میں ٹک ٹاک پر پابندی 90 دن کےلیے مؤخر
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کی کمپنی بائٹ ڈانس سے تعلق رکھنے والی ایپ ٹک ٹاک پر پابندی اور امریکی اثاثوں کی فروخت یا علیحدگی کےلیے مزید 90 دن کی مہلت دے دی ہے۔

 نئی تاریخ 17 ستمبر 2025ء مقرر کی گئی ہے، صدر ٹرمپ نے ڈیڈلائن میں تیسری بارتوسیع کی ہے، اگر یہ توسیع نہ ہوتی، تو ٹک ٹاک پرکل بروزجمعرات سے پابندی عائد ہو جاتی۔

ٹک ٹاک کی جانب سے ایک بیان میں کہاگیاہے کہ ہم صدر ٹرمپ کی قیادت اور حمایت کے شکر گزار ہیں، جس کی بدولت 17 کروڑ امریکی صارفین اور 75 لاکھ کاروبار ٹک ٹاک تک رسائی برقرار رکھ سکیں گے۔

یہ فیصلہ اس قانون کے باوجود کیا گیا ہے جو اپریل 2024ء میں منظور ہوا تھا، جس کے مطابق بائٹ ڈانس کو 19 جنوری 2025ء تک یا تو امریکی اثاثے فروخت کرنا تھے یا ایپ کو بند کرنا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئےفعال کردار ادا کرتا رہےگا: فیلڈ مارشل عاصم منیر 

 اس قانون کوامریکی عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا گیا تھا، مگر سپریم کورٹ نے پابندی کو برقرار رکھا تھا۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کارولین لیوٹ کاکہناہے کہ صدر ٹرمپ نہیں چاہتے کہ ٹک ٹاک بند ہو، مگر ڈیٹا سیکیورٹی یقینی بنانا بھی ضروری ہے،اگلے 3 ماہ میں حکومت فروخت کا عمل مکمل کروانے کی کوشش کرے گی تاکہ امریکی صارفین کا ڈیٹا محفوظ رہ سکے۔

امریکا اور چین میں ایک معاہدہ زیر غور تھا جس کے تحت ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز کو ایک نئی امریکی کمپنی میں تبدیل کیا جانا تھا، جو امریکی سرمایہ کاروں کے زیرِ کنٹرول ہوتی، تاہم چین نے ٹرمپ کی جانب سے لگائے گئے ٹیرف کے باعث اس ڈیل کو روک دیا۔

یہ بھی پڑھیں:حکومت نے نئی الیکٹرک وہیکل پالیسی تیارکرلی

ایک سروے کے مطابق امریکا میں بالغ افراد کا ایک تہائی حصہ ٹک ٹاک استعمال کرتا ہے، 30 سال سے کم عمر افراد میں استعمال کی شرح 59 فیصد ہے جبکہ نوجوانوں میں اس کا استعمال 67 فیصد ہے۔

ڈیموکریٹس نے ٹرمپ کی جانب سے ڈیڈلائن میں توسیع پر اعتراض کرتے ہوئے کہاہے کہ صدر کو ایسا کرنے کا قانونی اختیار نہیں اور زیر غور معاہدہ قانونی شرائط پر پورا نہیں اترتا۔