امریکا میں تاریخ رقم: پہلی مسلم نائب گورنر خاتون غزالہ ہاشمی نے قرآن پاک پر حلف اٹھالیا

Jan 20, 2026 | 08:26:AM
امریکا میں تاریخ رقم: پہلی مسلم نائب گورنر خاتون غزالہ ہاشمی نے قرآن پاک پر حلف اٹھالیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)امریکا میں نئی تاریخ رقم ہوگئی، پہلی مسلم نائب گورنر خاتون غزالہ ہاشمی نے قرآن پاک پر  عہدے کا حلف اٹھا لیا۔

ریاست کی تاریخ میں پہلی بار گورنر کا عہدہ بھی خاتون رہنما ایبی گیل نے سنبھال لیا۔

ورجینیا کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ اٹارنی جنرل کا عہدہ سیاہ فام جے جونز نے سنبھالا، سابق رکن کانگریس ایبی گیل اسپین برجر گورنر بنی ہیں اور لیفٹی نینٹ گورنر کے عہدے پر غزالہ ہاشمی نے قرآن پاک پر عہدے کا حلف لیا۔

غزالہ ہاشمی ریاست کی بھی پہلی نائب گورنر خاتون ہیں، حلف برداری کے موقع پر انٹرفیتھ پرئیر بریک فاسٹ کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں امام شریف نے دعا کرائی۔

اس موقع پر سینیٹر صدام ازلان سلیم اور سینیٹر کنعان بھی موجود تھے جبکہ ایڈمز اسکاؤٹنگ امریکا اور گرلز اسکاؤٹس نے اس موقع پر پریڈ میں حصہ لیا جس کی قیادت رضوان جاکا، احسن اللّٰہ، بیتھنی رشید اور دیگر نے کی۔

 اس موقع پر رضوان جاکا نے توقع ظاہر کی کہ ریاست میں اتحاد اور تنوع کوفروغ ملےگا۔

یہ بھی پڑھیں:مذاکرات ناکام ہونے پر بلغاریہ کے صدر رومین رادیو نے استعفیٰ دے دیا

ریاستی گورنر کے ایشین امریکن ایڈوائزری بورڈ کے چیئر  منصور قریشی نے اس موقع پر توقع ظاہر کی کہ نہ صرف گورنر اور لیفٹی نینٹ گورنر بلکہ پوری کابینہ ورجینیا میں بلاتفریق عوام بلخصوص جنوب ایشیائی کمیونٹی کی خدمت کرے گی۔

غزالہ ہاشمی کون ہیں؟
غزالہ کی ویب سائٹ پر موجود معلومات کے مطابق انھوں نے ’دوسروں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے اپنی کوششیں وقف کر رکھی ہیں۔

این بی سی کے مطابق غزالہ نے جیت کے بعد اپنے حامیوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا: ’ہم نے مل کر ایک نیا تاریخی راستہ بنایا ہے۔

خیال رہے کہ انڈیا کے شہر حیدرآباد میں 1964 میں پیدا ہونے والی غزالہ چار سال کی عمر میں اپنے والدین تنویر اور ضیا ہاشمی کے ساتھ امریکی ریاست جارجیا آئی تھیں۔
غزالہ ہاشمی کی ویب سائٹ کے مطابق وہ چار سال کی عمر میں اپنی والدہ اور بڑے بھائی کے ساتھ انڈیا سے امریکہ پہنچیں اور جارجیا میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کی کوششوں میں مشغول اپنے والد کے پاس جا کر آباد ہوئیں۔
ان کے والد ضیا ہاشمی انٹرنیشنل ریلیشنز (بین الاقوامی تعلقات) میں پی ایچ ڈی کر رہے تھے اور اپنی یونیورسٹی میں تدریسی کریئر کا آغاز کرنے والے تھے۔
غزالہ نے ایک ایسے وقت میں ایک چھوٹے سے کالج ٹاؤن میں پرورش پائی جب عوامی سکولوں میں نسلی تفریق ختم کی جا رہی تھی۔

مزید پڑھیں:وزیراعظم شہبازشریف ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کیلئے ڈیووس روانہ

اسی دوران انھوں نے قریب سے دیکھا کہ کس طرح سماجی، نسلی، اور معاشی خلیج کو کم کرنے کی سنجیدہ کوششوں کے ذریعے کمیونٹیز کو مضبوط بنانے اور ان کے درمیان مکالمے کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
نمایاں پوزیشن کے ساتھ ہائی سکول سے فارغ ہونے اور متعدد فل سکالرشپس اور فیلوشپس حاصل کرنے کے بعد غزالہ نے جارجیا سدرن یونیورسٹی سے اعزاز کے ساتھ بی اے اور اٹلانٹا کی ایموری یونیورسٹی سے امریکی ادب میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
غزالہ سنہ 1991 میں شادی کے فوراً بعد اپنے شوہر اظہر رفیق کے ساتھ رچمنڈ کے علاقے میں منتقل ہو گئیں۔
غزالہ کی ویب سائٹ کے مطابق انھوں نے تقریباً 30 سال تدریس کے شعبے میں گزارے، پہلے یونیورسٹی آف رچمنڈ میں اور پھر رینالڈز کمیونٹی کالج میں۔
رینالڈز میں انھوں نے تدریس و تعلیم میں بہترین کارکردگی کے مرکز سی ای ٹی ایل کی بانی ڈائریکٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں، غزالہ اور اظہر کی دو بڑی بیٹیاں ہیں جو چیسٹر فیلڈ کاؤنٹی کے پبلک سکولوں اور یونیورسٹی آف ورجینیا سے فارغ التحصیل ہیں۔