سندھ کا وفاق سے گندم کی امدادی قیمت مقرر کرنے کا مطالبہ

Oct 19, 2025 | 15:02:PM
سندھ کا وفاق سے گندم کی امدادی قیمت مقرر کرنے کا مطالبہ
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)سندھ حکومت نے وفاق سے ملکی سطح پر گندم کی امدادی قیمت مقرر کرنے کا مطالبہ کر دیا۔
نجی ٹی وی چینل  کے مطابق وزیر زراعت سردار محمد بخش مہر نے کہا ہےکہ آئی ایم ایف کی شرائط کے باعث صوبائی حکومتیں وفاق کی ہدایت کے بغیر کسانوں کو امدادی قیمت نہیں دے سکتیں، گندم کی امدادی قیمت مقرر نہ ہونے کی وجہ سے کسان شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔
سردار محمد بخش مہر نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاق کم از کم گندم کی امدادی قیمت 4 ہزار 200 روپے فی من مقرر کرنے کا اعلان کرے, پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکیٹو کمیٹی بھی گزشتہ روز گندم کی امدادی قیمت مقرر کرنے کا مطالبہ کر چکی ہے، اگر کسانوں کو مناسب قیمت نہ ملی تو وہ گندم کی کاشت چھوڑ کر دیگر فصلوں کی طرف جا سکتے ہیں، جس سے ملک میں غذائی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امیر بالاج قتل کیس کی تفتیش سی سی ڈی کے حوالے
سردار محمد بخش مہر نے کہا کہ سندھ نے کسانوں کے لیے گندم اگاؤ سپورٹ پروگرام کے تحت 56 ارب روپے کا امدادی پیکیج متعارف کروایا ہے، جس کے تحت کسانوں کو یوریا کھاد اور ڈی اے پی خریدنے کے لیے فی ایکڑ 24 ہزار 700 روپے سبسڈی دی جائے گی، یہ سہولت ایک تا 25 ایکڑ زمین والے 4 لاکھ 11 ہزار کاشت کاروں کو دی جائے گی، اب تک ایک لاکھ 32 ہزار 601 کسان رجسٹرڈ ہو چکے ہیں اور مزید کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے، ہم نے ہاری کارڈ اسکیم کے تحت ہاریوں کے لیے 8 ارب روپے بھی الگ مختص کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں 52 ہزار 993 ہاری کارڈ نئے رجسٹرڈ ہاریوں میں کسان سندھ بینک کی تمام برانچز کے ذریعے تقسیم کا عمل جاری ہے، یہ سکیم 58 ارب روپے کے امدادی پیکیج سے بالکل الگ ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی خصوصی ہدایت ہے کہ سندھ کے کسانوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں۔