ثناء یوسف قتل کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری ،ملزم عمر حیات کو سزائے موت، 20لاکھ معاوضہ ادا کرنے کا حکم

May 19, 2026 | 20:39:PM
ثناء یوسف قتل کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری ،ملزم عمر حیات کو سزائے موت، 20لاکھ معاوضہ ادا کرنے کا حکم
کیپشن: ثنا یوسف، فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(حاشر احسن وڑائچ) ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے ثناء یوسف قتل کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ۔

عدالت نے جرم ثابت ہونے پر مرکزی ملزم عمر حیات کو سزائے موت کا حکم سنا دیا۔عدالت نے مجرم پر دفعہ 544-A ضابطہ فوجداری کے تحت 20 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ معاوضے کی رقم مقتولہ ثناء یوسف کے قانونی ورثاء کو ادا کی جائے گی، مجرم عمر حیات کو دفعہ 392 ڈکیتی کے تحت 10 سال قیدِ کی سزا سنائی گئی، ڈکیتی کے جرم میں مجرم پر 2 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد، عدم ادائیگی پر 2 ماہ مزید قیدِ ہوگی۔

عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم کو دفعہ 499 کے تحت 10 سال قیدِ کی سزا اور دو لاکھ جرمانے کی سنائی گئی،مجرم عمر حیات کو دفعہ 411 کے تحت 1 سال قیدِ اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی گئی، سزائے موت کے علاوہ قید کی تمام سزائیں بیک وقت شروع ہوں گی۔

عدالت نے وقوعہ میں استعمال ہونے والی کرائے کی فارچونر گاڑی اصل مالک کو مستقل طور پر واپس کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے کہاکہ مقتولہ ثناء یوسف کی عمر 17 سال تھی اور وہ ایک میڈیا انفلوئنسر تھی، ملزم عمر حیات کے خلاف تھانہ سنبل میں مقدمہ درج تھا۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وقوعہ 2 جون 2025 کو شام تقریباً 5 بجے سیکٹر G-13/1 میں پیش آیا تھا، ملزم پسٹل سے مسلح ہو کر مقتولہ کے گھر میں داخل ہوا اور ثناء یوسف کے سینے پر سیدھی گولیاں چلائیں، زخمی ثناء یوسف کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں۔

عدالت نے کہاکہ ملزم عمر حیات کو پولیس نے جڑانوالہ سے گرفتار کیا تھا، ملزم کے قبضے سے مقتولہ ثناء یوسف کا غائب شدہ موبائل فون برآمد کیا گیا، ملزم عمر حیات کی نشاندہی پر آلۂ قتل 30 بور پسٹل برآمد ہوا، ملزم کے خلاف ناجائز اسلحہ رکھنے پر الگ مقدمہ درج کیا گیا۔

تفصیلی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزم نے وقوعہ کیلئے جی الیون مرکز سے 12 ہزار روپے کرائے پر فارچونر گاڑی حاصل کی تھی، ملزم عمر حیات نے اسسٹنٹ کمشنر اسلام آباد کے سامنے دفعہ 164 کے تحت اعترافی بیان بھی ریکارڈ کروایا تھا، عدالت نے 20 ستمبر 2025 کو ملزم پر فردِ جرم عائد کی تھی جس سے ملزم نے صحتِ جرم سے انکار کیا تھا ۔

عدالت نے کہاکہ استغاثہ کی جانب سے جرم ثابت کرنے کیلئے عدالت میں 27 گواہان کے بیانات قلمبند کروائے گئے، مقتولہ کی والدہ فرزانہ یوسف اور خالہ لطیفہ شاہ نے عدالت میں چشم دید گواہ کے طور پر بیانات ریکارڈ کروائے، گواہان نے 13 جون 2025 کو اڈیالہ جیل میں منعقدہ شناختی پریڈ کے دوران ملزم کو شناخت کیا تھا۔

عدالت کاکہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق موت سینے پر گولی لگنے ل کے باعث ہوئی، ڈاکٹر کی رائے کے مطابق گولی لگنے اور موت کے درمیان تقریباً 2 سے 3 منٹ کا وقت تھا۔

یہ بھی پڑھیں:بجلی کے بلوں پر200 یونٹس تک سبسڈی!وزیر توانائی کا اہم بیان آگیا