قومی اسمبلی،موسمیاتی تغیر میں پاکستان خطرناک ممالک میں سر فہرست،گلیشیئرز کی تفصیلات پیش
Stay tuned with 24 News HD Android App
(عثمان خان)قومی اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان میں گلیشیئرز اور آئی ٹی کمپنیوں کے حوالے سے تفصیلات پیش کر دی گئیں، کل نجی کاروائی کا ایجنڈا موخر کرنے کی تحریک منظور۔
قومی اسمبلی اجلاس کے آج ہونے والے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران وفاقی وزیر مصدق ملک نے تحریری جواب میں بتایا کہ گلگت بلتستان اور خیبرپختونخواہ میں 13ہزار 32 گلیشیئرز ہیں،سندھ طاس میں 26ہزار مربع کلومیٹر گلیشیئرز ہیں،گلیشیئرز ہمالیہ،قراقرم اور کوہ ہندوکش کے پہاڑی سلسلے میں موجود ہیں ،عالمی درجہ حرارت کی وجہ سے 10ہزار گلیشیئرز پیچھے ہٹ رہے ہیں،برفانی تودے پگھلنے سے 3ہزار 44جھیلیں بنی ہیں،33جھیلیں انتہائی غیر مستحکم ہیں جس سے 7 اعشاریہ ایک ملین لوگوں کو شدید خطرہ ہے،پاکستان 75گلیشیل لیک آؤٹ برسٹ فلڈ کے واقعات سے گزر چکا ہے۔ پاکستان کو بارشوں کی کمی کا بھی سامنا ہے،اوسط بارشوں میں 40 فیصد کمی ہوئی،گلاف پروجیکٹ کے تحت 24 وادیوں میں قبل ازوقت وارننگ سسٹم ،50ویدر سٹیشنز اور 408 ریور ڈسچارج سینسرز نصب کئے ہیں۔
وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے مزید بتایا کہ پاکستان موسمیاتی تغیر کے حوالے سے خطرناک ممالک میں سر فہرست،پاکستان موسمیاتی خطرات کے اشاریے کی رپورٹ کے مطابق شدید متاثرہ ممالک کی فرست میں پہلے نمبر پر رکھا گیا ہے،درجہ بندی کی بنیادی وجہ غیر معمولی سیلاب، جنہوں نے مذکورہ سال ملک کو تباہی سے دوچار کیا،
2022 میں مون سون بارشوں کے باعث پاکستان کو تباہ کن سیلابوں کا سامنا کرنا پڑا، پاکستان کے 94 اضلاع میں 3 کروڑ 30 لاکھ لوگ متاثر، 1700 اموات، 76 لاکھ افراد بے گھر ہوئے، سیلاب سے تباہ کاریوں کے نقصان کا تخمینہ 30 ارب ڈالر لگایا گیا۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور شرمیلا فاروقی کا کہنا تھا کہ حکومت نے بتایا کہ ایس آئی ایف سی کے تحت آئندہ پانچ سالوں میں 70 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری لائی جائے گی،اتنی کاوشوں کے باوجود ایس آئی ایف سی متاثرکن کارکردگی نہیں دکھا رہی،ایس آئی ایف سی 2.3 ارب ڈالرز کی براہ راست بیرونی سرمایہ کاری لے کر آئی۔
وقفہ سوالات میں وفاقی وزیر شزا فاطمہ نے بتایا کہ ملک میں 20ہزار 7سو 11 آئی ٹی کمپنیاں پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں،پنجاب میں 10ہزار 7سو 45،سندھ میں 6ہزار3سو52کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں،وفاقی علاقہ میں 3ہزار 2سو 64،خیبر پختونخواہ میں 2سو 43 کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں،بلوچستان میں 43،گلگت بلتستان میں 35اور آزاد کشمیر میں 29 کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں میں کل نجی کاروائی کا ایجنڈا موخر کرنے کی تحریک منظور کر لی گئی،تحریک وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پیش کی ،کل پرائیویٹ بزنس کی بجائے حکومتی بزنس لیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:کیا علیمہ خان PTIکا احتجاج لیڈ کریں گی،ایم این ایز کو کیا تحفظات ہیں؟