سینیٹ اجلاس: کم عمری کی شادی پر پابندی کا بل منظور، جے یو آئی کا واک آؤٹ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(وقاص عظیم )سینیٹ اجلاس میں اسلام آباد کیپیٹل ٹریٹری امتناع ازدواج کم عمری بل 2025 پر جمعیت علمائے اسلام( جے یو آئی) اور پاکستان پیپلز پارٹی(پی پی پی) میں شدید بحث کے بعد جے یو آئی نے واک آوٹ کردیا۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹ اجلاس میں آج تجارتی تنظیمیں ثانوی ترمیمی بل 2025 اور اسلام آباد کیپیٹل ٹریٹری امتناع ازدواج کم عمری بل 2025 کئے گئے ،دونوں بلز کو ایوان میں پیش کیے جانے کے بعد اکثریتی ووٹ سے منظور کر لیا گیا تاہم کم عمری کی شادی پر پابندی کے بل پر ایوان جمعیت علمائے اسلام( جے یو آئی) اور پاکستان پیپلز پارٹی(پی پی پی) سمیت کئی جماعتوں کے اراکین کے درمیان شدید بحث دیکھنے میں آئی۔
تجارتی تنظیمیں ثانوی ترمیمی بل 2025 سینیٹر شہادت اعوان نے ایوان میں پیش کیا، جسے سینیٹ نے متفقہ طور پر منظور کر لیا، بل کے تحت تجارتی تنظیموں سے متعلق قوانین میں ترامیم متعارف کروائی گئی ہیں جن کا مقصد ان تنظیموں کے نظم و نسق اور شفافیت کو بہتر بنانا ہے۔
اسلام آباد کیپیٹل ٹریٹری امتناع ازدواج کم عمری بل 2025 سینیٹر شیری رحمان نے پیش کیا،بل کے تحت اسلام آباد میں 18 سال سے کم عمر بچیوں کی شادی پر پابندی عائد کی جائے گی،تاہم بل پر ایوان میں مذہبی و سماجی پہلوؤں پر مبنی شدید بحث دیکھنے میں آئی ، جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پہلے اس بل پر اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے لی جائے، پی پی پی سینیٹر شیری رحمان نے بحث کے دوران کہا کہ یہ بل مذہب کے خلاف نہیں ہے، آپ 18 سال سے پہلے بچیوں کی شادی نہیں کر سکتے ، ہر دو گھنٹے میں ایک عورت زچگی کے دوران جان سے جاتی ہے، بچوں کو غذائی قلت کا سامنا ہے،انہوں نے بتایا کہ یہ بل پہلے بھی سینیٹ سے منظور ہوا تھا مگر قومی اسمبلی میں منظوری نہ مل سکی، اس بار اسے قائمہ کمیٹی نے بھی منظور کیا ہے۔
جے یو آئی کے سینیٹر مولانا عطاء الرحمٰن نے بل کی مخالفت کی اور ایوان سے واک آؤٹ کر دیا،ان کا کہنا تھا کہ بل اسلامی روایات کے خلاف ہے اور اسے منظور کرنے سے پہلے علماء سے مشاورت ضروری ہے۔
پی ٹی آئی کے سینیٹر دوست محمد نے بھی بل کو اسلامی نظریاتی کونسل بھیجنے کی حمایت کی اور کہا ہمیں یورپی ممالک کی تقلید نہیں کرنی چاہیے،ایمل ولی نے کہا کہ نکاح کی شرط بلوغت ہے عمر کی نہیں تاہم انہوں نے زور دیا کہ اصل مسئلہ زبردستی کی شادیوں کا ہے جس پر قانون سازی ہونی چاہیے۔
اس دوران فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چونکہ اسلام میں بلوغت کی عمر کی واضح تعریف نہیں دی گئی،اس لیے قانون میں 18 سال کی عمر کی تعریف لاگو ہو گی جبکہ ثمینہ ممتاز زہری کا کہنا تھا کہ ہمیں اسلام اور مغرب کی بحث میں نہیں پڑنا چاہیے بلکہ انسانی مسائل کو حل کرنا چاہیے۔
اس حوالے سے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ بل کو اسلامی نظریاتی کونسل بھیجنے کے لیے ایوان میں اکثریتی حمایت ضروری ہے اور پوچھا کہ کیا آپ کے پاس 38 ممبران کی حمایت ہے؟
تاہم اکثریت نہ ہونے پر ووٹنگ کرائی گئی، جے یو آئی کے سینیٹرز ایوان سے واک آؤٹ کر گئے، اس کے بعد سینیٹ نے امتناع کم عمری شادی بل متفقہ طور پر منظور کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں ؛ سوشل میڈیا پر بم بنانے کا طریقہ سیکھنےکے مقدمہ میں مجرم کو ڈھائی سال قید و جرمانہ