چین کی 22,000 سستی الیکٹرک گاڑیوں کی درآمدگی،برازیل میں نئی کشمکش
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) چین کی الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کی سب سے بڑی کمپنی BYD نے دنیا کے سب سے بڑے کار بردار بحری جہاز کے ذریعے اپنی پہلی کھیپ (تقریباً 22,000 گاڑیاں) گزشتہ ماہ برازیل کے بندرگاہ اِتاجائی پہنچا دی جس کے ساتھ ہی برازیل میں ایک نئی معاشی اور صنعتی کشمکش نے جنم لے لیا ہے۔
جہاز پر تقریباً 20 فٹبال گراؤنڈز کے برابر گاڑیاں موجود تھیں اور یہ رواں سال چین کی جانب سے برازیل بھیجی گئی گاڑیوں کی چوتھی بڑی شپمنٹ تھی جس میں اب تک تقریباً 22,000 گاڑیاں درآمد کی جا چکی ہیں۔

چینی کمپنیاں خاص طور پر BYD برازیل میں سستی الیکٹرک گاڑیوں کی پیشکش کے ذریعے تیزی سے مارکیٹ حاصل کر رہی ہیں،اس وقت برازیل میں 80 فیصد سے زائد الیکٹرک گاڑیاں چین سے درآمد شدہ ہیں،برازیل کے کار ساز ادارے مزدور یونینز، اور صنعتی حلقے اس پیش رفت پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے مقامی پیداوار کی بجائے بڑے پیمانے پر گاڑیوں کی درآمد مقامی صنعت، روزگار اور سرمایہ کاری کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
2015 میں برازیل نے الیکٹرک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے درآمدی ڈیوٹی ختم کر دی تھی تاہم 2023 میں 10 فیصد ڈیوٹی دوبارہ نافذ کی گئی جو بتدریج بڑھتے ہوئے 2026 تک 35 فیصد تک پہنچنی ہے۔
البتہ برازیل کی آٹو موبائل ایسوسی ایشن ANFAVEA اور مزدور تنظیمیں حکومت سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ یہ ڈیوٹی جلد نافذ کی جائے تاکہ ملکی صنعت کو تحفظ دیا جا سکےاگرچہ BYD نے برازیل میں فیکٹری قائم کرنے کے لیے ایک سابقہ فورڈ پلانٹ خریدنے کا اعلان کیا تھا مگر مزدوروں کے حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق تحقیقات کی وجہ سے پیداوار کا آغاز 2026 کے آخر تک مؤخر ہو چکا ہے،اسی طرح ایک اور چینی کمپنی GWM نے بھی اپنی پلانٹ کی سرگرمیاں ایک سال تاخیر کا شکار کی ہیں۔
برازیل کی وزارت برائے ترقی صنعت و تجارت کا کہنا ہے کہ ڈیوٹی میں اضافے کا فیصلہ اس لیے بتدریج کیا گیا ہے تاکہ کمپنیاں مقامی پیداوار کی منصوبہ بندی کے لیے وقت حاصل کر سکیں تاہم، ANFAVEA کی درخواست پر ڈیوٹی جلد نافذ کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
برازیل دنیا کی چھٹی بڑی گاڑیوں کی مارکیٹ ہے جہاں اب بھی الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ محدود ہے مگر چین نے اس ابتدائی مرحلے کو اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔

دوسری جانب برازیل کے پاس EV بیٹریوں میں استعمال ہونے والے معدنیات کی بڑی مقدار موجود ہے مگر ابھی مکمل سپلائی چین تیار نہیں ہو سکی۔
یہ بھی پڑھیں : ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس میں اضافہ نہیں کیا جارہا، چیئرمین ایف بی آر