روزویلٹ ہوٹل کی تزئین و آرائش، آپریشنز کی بحالی میں یو ایس جنرل ایڈمٹسٹریشن اشتراک کرےگی

Feb 19, 2026 | 23:47:PM
روزویلٹ ہوٹل کی تزئین و آرائش، آپریشنز کی بحالی میں یو ایس جنرل ایڈمٹسٹریشن اشتراک کرےگی
کیپشن: پاکستان کے وزیر خزانہ اورنگ زیب اور امریکہ کے خصوصی ایلچی ستیو وٹکوف، واشنگٹن میں روزویلٹ ہوٹل کی بحالی کے ایم او یو پر دستخط کے بعد خوش نظر آ رہے ہیں۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز) نیویارک میں پاکستان کے قومی اثاثے روزویلٹ ہوٹیل کی بحالی کے متعلق خبریں آنے کے بعد واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانہ کا تصدیقی بیان بھی آ گیا۔

واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانہ نے بتایا ہے کہ پاکستان اور امریکہ نے روز ویلٹ ہوٹل، نیویارک سے متعلق تعاون کے لیے ایک اسٹریٹجک اقتصادی اقدام کا باضابطہ آغاز کیا ہے۔

پاکستانی سفارت خانہ  کے ترجمان نے بتایا کہ اس مشترکہ اقدام میں ہوٹل کی تزئین و آرائش، ہوٹیل کے آپریشنز، دیکھ بھال اور ڈیویلپمنٹ کے سلسلے میں یو ایس جنرل ایڈمنسٹریشن(GSA) کے ساتھ اشتراک شامل ہے۔ 

اس اشتراک کے متعلق پاک امریکہ بات چیت میں امریکی ٹیم کی قیادت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے  خصوصی ایلچی سٹیوو ویٹکوف نے صدر ٹرمپ کی رہنمائی میں کی۔

 پاکستانی ایمبیسی کے ترجمان نے تصدیق کی کہ اس شراکت داری کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان اور امریکہ کی حکومتوں نے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں جو باہمی تعاون کو باضابطہ شکل دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیئے: روز ویلٹ ہوٹل کی بحالی کیلئے پاکستان اور امریکا کا باضابطہ تعاون شروع، مفاہمتی یادداشت پر دستخط

امریکہ کی جانب سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط GSA کے ایڈمنسٹریٹر ایڈورڈ سی فارسٹ نے کیے۔ پاکستان کی جانب سے وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب نے دستخط کیے۔

 وزیرِاعظم شہباز شریف اور امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیوو ویٹکوف نے اس خصوصی اجلاس میں گواہ  کی حیثیت سے شرکت کی۔

یہ تاریخ ساز مفاہمتی یادداشت تکنیکی، تجارتی اور معاشی پہلوؤں کے مشترکہ جائزے کے لیے ایک منظم اور وقت کا پابند فریم ورک فراہم کرتی ہے۔ یہ فریم ورک شفاف، منضبط اور باہمی مفاد پر مبنی پیش رفت کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

واشنگٹن مین پاکستانی ایمبیسی کے ترجمان نے واضح کیا کہ  نیویارک کے مین ہیٹن میں روز ویلٹ ہوٹیل کے خصوصی محلِ وقوع اور نیویارک کے زوننگ اور  بلدیاتی امور کی پیچیدگی کے پیش نظر، ادارہ جاتی ہم آہنگی عمل درآمد کے  دوران رکاوٹوں اور خطرات کو کم کرنےمیں معاون ہوگی۔

اس سے ضابطہ جاتی وضاحت کو بہتر بنانے اور لین دین کی زیادہ سے زیادہ قدر حاصل کرنے میں معاون ہوگی۔

یہ بھی پڑھیئے:  مشعال ملک کا کشمیر کیلیے بھی امن بورڈ کے قیام کا مطالبہ  

ترجمان نے وضاحت کی کہ اس نوعیت کے سہولت کاری فریم ورک سرحد پار جائیداد اور انفراسٹرکچر منصوبوں میں بین الاقوامی روایات سے ہم آہنگ ہیں۔ اس کا مقصد حکومتی نجکاری حکمتِ عملی کے مطابق اس جائیداد کی زیادہ سے زیادہ قدر حاصل کرنا ہے۔   جبکہ اس ہوٹیل کی بحالی کیلئے اشتراک سے  پاکستان اور امریکہ کے اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جانا بھی مقصود ہے۔

یہ بھی پڑھیئے: بورڈ آف پیس اجلاس؛ ٹرمپ نے فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کی تعریفوں کے پُل باندھ دیئے