غزہ میں دو سال بعد تباہ حال مساجد آباد ہونے لگیں، نماز جمعہ کی ادائیگی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)غزہ میں دو سال بعد مساجد بھی آباد ہونے لگیں، وسطی غزہ میں صدیوں پرانی مسجد میں لوگوں کی بڑی تعداد نے نماز جمعہ ادا کی۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق خان یونس میں اسرائیلی بمباری میں تباہ حال مسجد میں نماز جمعہ کا اجتماع ہوا، جس میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔
شہریوں نے کہا مساجد کے ملبے پر نماز ادا کرنا اس بات کی علامت ہے کہ غزہ کے عوام اپنی سر زمین اور عقیدے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، چاہے حالات کتنے ہی سنگین کیوں نہ ہوں۔
دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے، گاڑی پر فضائی حملے کے باعث ایک ہی خاندان کے 11 افراد شہید ہوگئے۔
رپورٹس کے مطابق گاڑی میں سوار افراد غزہ شہر کے علاقے الزیتون لوٹ رہے تھے۔ شہدا میں سات بچے اور تین خواتین شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:طورخم بارڈر ساتویں روز بھی بند، دو طرفہ تجارت معطل، اشیاء خراب ہونے لگیں
حماس کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ یہ حملہ ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل دانستہ طور پر نہتے شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
حماس نے صیہونی فوج کی جارحیت کو مصر میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیدیا۔