ایران کے بوشہر نیوکلئیر کمپلیکس پر بھی میزائل گر گیا، روس کی شدید مذمت
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) روس نے ایران کے بوشہر جوہری پلانٹ کے ری ایکٹر کے قریب حملے کی مذمت کی ہے۔
بوشہر نیوکلئیر ری ایکٹر کو روسی ایکسپرٹس نے تعمیر کیا ہے، دونوں مرتبہ ایران پر اسرائیل کے حملوں کے وقت روس کے سینکڑوں ٹیکنیشن بوشہر کے نیوکلئیر کمپلیکس کے اندر کام کر رہے تھے۔ اب روس نے جس حملے کی مذمت کی ہے ، اس کے بارے میں اسرائیل مکمل خاموش ہے۔
اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ اسرائیلی فضائیہ نے بو شہر میں جنوبی پارس گیس فیلڈ میں ہوئے ہیں۔ اسرائیلی طیاروں کی بمباری سے جنوبی پارس گیس فیلڈ کے کئی حصوں کو شدید نقصان پہنچا، وسیع علاقہ مین آگ لگی، جس کے بعد گیس فیلڈ کے بیشتر حصوں کو مکمل بند کر دیا گیا۔ اسرائیل کے بیان سے قطع نظر ماسکو مین آج روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے غیر معمولی بیان دیا جس مین کہا گیا کہ میزائل بوشہر نیوکلئیر کمپلیکس کے احاطے کے اندر تنصیبات سے "کچھ میٹر کے فاصلے پر" گرا۔
نیوز ایجنسی روؤٹرز کے مطابق کریملن کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زاخارووا نے ایک نیوز بریفنگ میں یہ تبصرہ کیا: روس نے کل ایران کے بوشہر جوہری پاور پلانٹ کے قریب ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے۔ جو اس کے بقول اس کے ری ایکٹر سے صرف میٹر کے فاصلے پر تھا، اور امریکہ اور اسرائیل سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے بند کریں۔
یہ بھی پڑھیئے: ایران نے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر اسرائیلی بمباری کے بعد سعودیہ اور دیگر عرب اور ملکوں کی آئل، گیس تنصیبات پر حملوں کی وارننگ دےدی
یہ بھی پڑھیئے: ایران کے وزیرانٹیلی جنس اسمعیل خطیب بھی شہید ہو گئے، اسرائیل کا دعویٰ
روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان زاخارووا کہتی ہیں، "ہم ایک آپریشنل ری ایکٹر سے چند میٹر کے فاصلے پر، بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کے اندرونی علاقے پر غیر ذمہ دارانہ اور بالکل ناقابل قبول میزائل حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔"
انہوں نے کہا، اس طرح کے حملوں نے مشرق وسطیٰ کے لیے ناقابل قبول ریڈیولاجیکل خطرات پیدا کیے، اور یہ غیر متوقع نتائج سے بھرے تھے۔
روس نے بوشہر پلانٹ بنایا، اسے چلانے میں ایران کی مدد کی، اور اب اسے بڑھانے میں مدد کر رہا ہے۔
ایران نے کل بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کو بتایا کہ اس حملے میں کوئی نقصان یا چوٹ نہیں آئی۔