ایران میں تیل کے ذخائر پر بمباری سے پاکستان میں ماحول کو کوئی خطرہ نہیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) پاکستان کے میٹیریولوجیکل ڈیپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ ایران میں تیل کے ذخائر پر بمباری سے پاکستان میں ماحول کو کوئی خطرہ نہیں۔
میٹیریولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان نے آج بتایا کہ پاکستان کی بالائی فضا میں خطرناک آلودہ ذرات یا زہریلی گیسوں کے کوئی آثار نہیں ملے۔
ترجمان انجم نذیر نے بتایا کہ ایران کے تیل ذخائر پر ہونے والی بمباری سے پاکستان کا ماحول فی الحال کسی بھی قسم کےخطرے سے محفوظ ہے۔
پاکستان کا میٹ ڈیپارٹمنٹ اپنے معمول کے مطابق ایرانی میٹیریولوجیکل ڈیپارٹمنت کے حکام کےساتھ رابطےمیں ہے اور ڈیٹا کے تبادلے معمول کے مطابق کئے جا رہے ہیں۔
انجم نذیر نے بتایا کہ ایرانی ڈیٹا کے مطابق بالائی فضا میں خطرناک آلودہ ذرات یا زہریلی گیسوں کے آثار نہیں ملے۔ پاکستان کے اندر معمول کے مطابق کی جا رہی مانیٹرنگ میں بھی کسی بھی قسم کی تابکاری کے ثبوت نہیں ملے۔
یہ بھی پڑھیئے: علی لاریجانی کی شہادت سے نظام متاثر نہیں ہوگا، ایرانی وزیر خارجہ
یہ بھی پڑھیئے: ایران کے وزیرانٹیلی جنس اسمعیل خطیب بھی شہید ہو گئے، اسرائیل کا دعویٰ
ترجمان محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ اگر خدا نہ خواستہ ایران میں تابکاری کاکوئی واقعہ ہوتا ہے تو ہواؤں کے رخ کے زیر اثر اس تابکاری کے اثرات پاکستان کی طرف نہیں آئیں گے بلکہ ترکمانستان کی طرف جائیں گے۔ انجم نذیر نے بتایا کہ اب تک بمباری ایران کے شمال مغربی حصے میں ہو رہی ہے، پاکستان کا بارڈر ایران کے جنوبی حصے سے ملتا ہے جہاں حالات معمول کے مطابق ہیں۔
پس منظر
بعض میڈیا آؤٹ لیٹس نے یہ افواہ اڑائی تھی کہ ایران کے تیل کے ذخائر پر اسرائیل اور امریکہ کی بمباری کے نتیجے میں ایران کو سنگین ماحولیاتی تباہی کا سامنا ہے اور تہران اور گردونواح میں ہونے والی ’بلیک تیزابی بارش‘ کو اس کی ایک علامت کہا گیا تھا۔ سوشل میڈیا پر بھی پاکستان میں ماحول کو ایران جنگ سے نقصان پہنچنے کے متعلق غیر ذمہ دارانہ افواہیں پھیلائی جا رہی تھیں۔ پاکستان کے میٹ ڈیپارٹمنٹ نے آج صورتحال کی وضاحت کر دی ہے۔