مقبول اداکار علی اعجازکوبچھڑے 7برس بیت گئے

 1961ء میں فلمی کیریئر کا آغاز کیااور 106 فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے 

Dec 18, 2025 | 16:03:PM
 مقبول اداکار علی اعجازکوبچھڑے 7برس بیت گئے
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ایم وقار)فلم، ریڈیو، ٹی وی اور تھیٹرکے مقبول اداکار علی اعجازکوبچھڑے 7برس بیت گئے۔
علی اعجاز کا شمار پاکستانی فلمی صنعت سے وابستہ ان ناموں میں ہوتاتھا جنہیں شوبز کی دنیا کا اثاثہ اور قابل فخر ورثہ قرار دیا جاتا تھا، پاکستانی فلموں کی تاریخ مرتب کرنے والوں کیلئے علی اعجاز کا ذکر نہ کرنا ممکن ہی نہیں کہ ان کے بغیر نہ تو فلمی تاریخ مکمل ہوگی اور نہ ہی قابل اعتبار ٹھہرے گی، وہ اس سنہرے دور میں فلموں میں آئے جب ہر طرف بڑے بڑے نام جگمگا رہے تھے‘ لیکن انہوں نے اس لگن، انہماک اور توجہ کے ساتھ کام کیا کہ اپنے دور کے تمام فلم سازوں کی مجبوری بن گئے۔

 علی اعجاز کی اداکاری اس قدر فطری اور جاندار ہے کہ دیکھنے والوں کو گمان بھی نہ ہوتا تھا کہ ان کے سامنے ”اداکاری“ کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ مکالموں کی ادائیگی، آواز کے اتار چڑھاؤ اور چہرے کے تاثرات سے علی اعجاز اپنے ہر ”سین“ کو مکمل کر دیتے تھے،انہوں نے فلموں میں یاد گار کردار کئےاور ایک زمانہ ایسا بھی آیا جب رانی،نازلی،اور انجمن جیسی اداکارائیں ان کے ساتھ کام کرنے کے لئے سفارشیں کرایا کرتی تھیں، فلموں کے ساتھ ساتھ انہوں نے تھیٹر کے بہت سے ڈراموں میں لازوال کردار کئے اور ان کا شمار ایسے چندفنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے جوانی میں بڑھاپے کے کردار کئے اور اسی لئے وہ ابتدا میں ہی کریکٹرآرٹسٹ کے طور پر مشہور ہوگئے تھے۔


علی اعجاز نے 1961ء میں’ ’انسانیت‘‘ سے فلمی کیریئر کا آغاز کیاجس کے ڈائریکٹر شباب کیرانوی تھے،انہوں نے 106 فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے جن میں 84 پنجابی،22 اردو اور ایک پشتو فلم شامل تھی ان فلموں میں انسانیت، دبئی چلو، دادا استاد، پیار دا پلہ، بھائیاں دی جوڑی، یملا جٹ، بد نالوں بدنام برا،عشق میرا ناں،سادھو اور شیطان، لیلی مجنوں، ظلم کدی نئیں پھلدا، سدھا رستہ،بادل، سوہرا تے جوائی، مسٹر افلاطون،نوکر تے مالک، ووہٹی دا سوال اے، باو¿ جی،دشمن پیارا، اندھیر نگری، دھی رانی، چور مچائے شور، عشق میرا ناں، بھروسا،سالا صاحب،اتھرا پتر، آ پ سے کیا پردہ، سسرال چلو، اور عشق سمندر سمیت بہت سی فلمیں شامل ہیں شامل ہیں،انہوں نے ریڈیو پر بھی کئی پروگراموں کی میزبانی کی تھی۔


علی اعجازکا تعلق لاہور کے علاقے قلعہ گوجرسنگھ کی سید فیملی سے تھا،ان کی  ابتدا میں ہی دوستی رفیع خاور اورمنور ظریف سے ہی تھی اورانہیں اور منورظریف کو بڑے ظریف صاحب کو دیکھ کر اداکاری کا شوق پیدا ہوا حالانکہ ظریف اس بات کے سخت خلاف تھے جنہوں نے دونوں کو سختی سے منع کیا ہوا تھا کہ سٹوڈیوکے قریب بھی نظرنہ آنا۔

علی اعجاز نے قومی بنک میں بھی ملازمت کی،فلموں میں آنے سے پہلے ان کا ڈرامہ ’’لاکھوں میں تین‘‘پی ٹی وی سے سپرہٹ ہوا تھاجس میں ان کے ساتھ قمر چوہدری اور محمد قوی خان نے بھی کام کیاتھا،اسی ڈرامے میں ان کی پرفارمنس دیکھ کر شباب کیرانوی نے ان سے فلم میں کام کے لئے رابطہ کیا۔


انہوں نے اپنے دور کی تمام مشہور اداکاراؤں کے ساتھ کام کیا،وہ نہایت اصول پسند اور کفایت شعار انسان تھے،انہوں نے کیریئر میں کئی مرتبہ کاروبار کرنے کی کوشش بھی کی لیکن اس میں انہیں زیادہ کامیابی نہ ہوئی،ایک زمانے میں انہوں نے سکیم موڑ پر وڈیو فلمیں کرائے پر دینے کے لئے دوکان بھی بنائی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:لازوال نغموں کےخالق رشیدعطرے کوبچھڑے 58برس بیت گئے
انہوں نے اپنی زندگی کے آخری ایام بھی کسمپرسی میں گزارے، یہ نامور اداکار 18دسمبر2018کوراہی ملک عدم ہوگئے تھے۔