لازوال نغموں کےخالق رشیدعطرے کوبچھڑے 58برس بیت گئے
80 سے زائد فلموں کی موسیقی ترتیب دی،موسیقارکے نام سے ذاتی فلم بھی بنائی تھی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ایم وقار)برصغیرکے بے مثل موسیقاررشید عطرے کومداحوں سے جُدا ہوئے 58برس بیت گئے لیکن ان کی تخلیق کردہ دُھنیں انہیں آج بھی زندہ رکھے ہوئے ہیں،وہ 18دسمبر 1967ء کواس دنیائے فانی کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ گئے تھے۔
1919ء کوامرتسر کے ایک موسیقار گھرانے میں آنکھ کھولنے والے رشید عطرے کا اصل نام عبدالرشید تھا،ان کے والدخوشی محمد بھی اپنے دور کے نامور موسیقاروں میں شمارہوتے تھے اور اپنے دور کے معروف ہارمونیم نواز تھے،رشیدعطرے بچپن ہی سے اپنے والد سے موسیقی کی تعلیم لیتے رہے پھر اپنے عہدکے عظیم گائیک اُستاد فیاض علی خان کے شاگرد ہوگئے، فن موسیقی کا آغازتقسیم ہند سے قبل بننے والی فلم”شیریں فرہاد“سے کیا تھا۔
رشیدعطرے نے قیام پاکستان سے قبل 8 فلموں کی موسیقی ترتیب دی جن میں پھرملیں گے، پاور، نتیجہ، عید، مامتا، پگلی،شیریں فرہاد اور کمرہ نمبر9 شامل تھیں،تقسیم ہندکے بعد انہوں نے بطورموسیقار فلم”بیلی“کی موسیقی ترتیب دی، فلم”یاس“ کی ناکامی کے بعدوہ لاہورسے راولپنڈی چلے گئے جہاں ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوگئے،1953ء میں فلم ساز نذیر کی فلم ”شہری بابو“کی موسیقی ترتیب دی اور یہ فلم سپرہٹ ہوئی اور اس کے گانوں نے خوب دھوم مچائی جس کے بعد رشید عطرے کی کامیابی کے سفر کا آغاز ہوا۔
انہوں نے 80 سے زائد فلموں کی موسیقی ترتیب دی جن میں پنجابی اور بیشتر اردو تھیں،”موسیقار“کے نام سے ایک ذاتی فلم بھی بنائی تھی جس کاایک گیت”گائے گی دُنیا گیت میرے“ان کے تخلیقی کاموں اور موسیقی کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آسکر ایوارڈز2029 سے یوٹیوب پر نشر ہوں گے
انہوں نے وعدہ،سات لاکھ،نیند، قیدی اور مکھڑا جیسی شاہکار فلموں کی موسیقی ترتیب دی اورتین نگار ایوارڈ اپنے نام کیے تھے،ان کے ترتیب دیئے گئے نغمات کی ایک طویل فہرست ہے جن میں اس بے وفاکا شہرہے اورہم ہیں دوستو، گھونگھٹ نکالوں کہ گھونگھٹ اُٹھالوں، گائے گی دُنیا گیت میرے اوردیگر شامل ہیں۔
رشیدعطرے کے بیٹے وجاہت عطرے نے بھی فلمی موسیقی میں بہت نام کمایااورکئی فلموں کی موسیقی دی اورلازوال دُھنیں ترتیب دیں،اب ان کے پوتے علی عطرے بھی خاندانی میراث کوآگے بڑھارہے ہیں۔