مردوں میں کمر کا سائز 37 ,خواتین میں 31 انچ سے زیادہ ہونا موٹاپے کی علامت ہے;ڈاکٹر غیا ث النبی طیب
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز )ممتاز ماہر امراض جگر و معدہ پروفیسر ڈاکٹر غیا ث النبی طیب نے کہا ہے کہ مردوں میں کمر کا سائز 37 اور خواتین میں 31 انچ سے زیادہ ہونا موٹاپے کی علامت ہے جو جگر کی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔
مارننگ وِد فضا مین گفتگو کرتے ہوئےپروفیسر ڈاکٹر غیا ث النبی طیب کا کہنا تھا کہ پاکستان میں فیٹی لیور کی بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے، 35 برس سے زائد عمر کی 57 فیصد خواتین ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے معیار کے مطابق موٹاپے کا شکار ہیں جبکہ 27 فیصد میں واضح موٹاپا پایا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بڑھا ہوا پیٹ جگر کی خرابی اور جگر کے کینسر کے خطرات میں اضافہ کرتا ہے،پروفیسر ڈاکٹر غیاث النبی طیب نے بتایا کہ جگر کے کینسر کی علامات غیر واضح ہوتی ہیں اور ہیپاٹائٹس بی یا سی کے مریضوں میں اس کا خدشہ زیادہ رہتا ہے، اس لیے جگر کا الٹراساؤنڈ اور ضرورت پڑنے پر سی ٹی اسکین لازمی کرانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر بیماری ابتدائی مرحلے پر پکڑی جائے تو علاج آسان ہے لیکن بدقسمتی سے 80 فیصد مریض تیسرے مرحلے پر پہنچ کر تشخیص کراتے ہیں،انہوں نے کہا کہ سٹیج اے یا بی پر علاج ممکن ہے، سٹیج سی پر مریض کو کچھ دن زندہ رکھا جا سکتا ہے جبکہ سٹیج ڈی پر صرف دیکھ بھال کی جا سکتی ہے۔
پاکستان میں اس وقت 8 مراکز پر جگر کا ٹرانسپلانٹ ہو رہا ہے جن میں لاہور کے چار مراکز شامل ہیں تاہم یہ علاج انتہائی مہنگا ہے اور اس کے بعد بھی ادویات اور پیچیدگیاں باقی رہتی ہیں اگر کینسر بڑھ جائے اور غدود بن جائیں تو علاج کے لیے امیونو تھراپی یا ٹارگٹڈ تھراپی استعمال کی جاتی ہے جو مزید مہنگی ہے، جگر کے کینسر سے متعلق آگاہی کے لیے 23 اگست کو لاہور میں ایک کانفرنس اور سیمینار منعقد کیا جائے گا جس میں ماہرین عوام کو معلومات فراہم کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: کامن سینس دراصل اکثر لوگوں میں بہت ان کامن ہے، ڈاکٹر رفیق ڈار