یوم آزادی پر دہشتگردی کا منصوبہ ناکام ، کوئٹہ سے بی ایل اے کا سہولت کار پروفیسر گرفتار
Stay tuned with 24 News HD Android App
( 24 نیوز )وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ سیکیورٹی اداروں نے ایک مبینہ خودکش حملہ آور کو گرفتار کر کے یومِ آزادی پر ہونے والے دہشت گرد حملے کو ناکام بنا دیا۔
کوئٹہ میں دیگر اعلیٰ حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ 14 اگست کو خودکش حملہ آور ان معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والے تھے، جو یومِ آزادی منا رہے تھے۔
انہوں نے سیکیورٹی اداروں، محکمہ انسداد دہشتگردی بلوچستان اور پولیس کو صوبے کو بڑی تباہی سے بچانے پر سراہا، انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ مجید بریگیڈ کے کسی عہدیدار کو گرفتار کیا گیا، یہ پاکستان اسٹڈیز کا لیکچرار ہے، اندازہ کریں کہ کتنے بچوں کو اس نے ورغلایا ہوگا، یہ شخص دہشت گردوں کا علاج اپنے گھر پر کرواتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ منظم انداز میں پاکستان کو توڑنے کی سازش کی جارہی ہے، اس طرح پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ ہماری ایجنسیاں، حکومت اور ہر کوئی پریشان ہے، اس دہشتگردی کو کچھ اور نام دیا جاتا ہے، ایسے لوگ جن کے رشتہ دار کسی عسکریت پسند تنظیم کا حصہ بنتے ہیں تو ان کے اہل خانہ کسی کو اطلاع نہیں دیتے، حالاں کہ ایسے لوگ تربیت لے کر واپس گھر بھی آتے ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:سابق وزیراعلیٰ کے وارنٹ گرفتاری جاری
سرفراز بگٹی نے کہا کہ اب ایسا نہیں چلے گا، ایسے لوگوں کے اہل خانہ کو حکومت کا اطلاع دینا ہوگی، ورنہ یہ سمجھا جائے گا کہ پورا خاندان ملا ہوا ہے، والدین اپنے بچوں پر نظر رکھیں، کہ وہ کس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ گرفتار ملزم نے کئی انکشافات کیے ہیں، مجید بریگیڈز کئی ٹیئرز میں کام کرتی ہے، یہ لوگوں کو ورغلا کر انہیں تربیت دیتے ہیں، انہیں خود کش حملہ آور بناتے ہیں، ایک ٹیئر میں پولیس، لیویز، فورسز کے اہلکاروں کو قتل کرنے پر پیسے دیے جاتے تھے، پنجاب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو بھی ٹارگٹ کرنے پر انہیں پیسے دیے جاتے ہیں۔
ہم اس کے ساتھیوں تک بھی پہنچیں گے، مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس سے قبل ایسا تاثر بنایا گیا تھا کہ فوج اور سرمچاروں کے درمیان جنگ یا لڑائی چل رہی ہے، ہم نے ایک پورا سیل بنایا ہے۔
مزید پڑھیں:قرضوں کے حوالے سے اہم انکشاف، شہریوں کی تشویش بڑھ گئی
وزیراعلیٰ بلوچستان نے گرفتار شخص کا ایک ریکارڈ شدہ بیان بھی چلایا، جس میں اس نے کہا کہ قائداعظم یونیورسٹی سے ماسٹرز اور پشاور یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رکھی ہے، اور گریڈ 18 میں بطور لیکچرار تعینات ہے، اس شخص نے بتایا کہ اس کی بیوی بھی سرکاری ملازم ہے۔
گرفتار ملزم نے تفصیل بتائی کہ 2020 میں قائداعظم یونیورسٹی کے ایک دورے کے دوران اس کی ملاقات ’ایک تنظیم‘ سے تعلق رکھنے والے 3 افراد سے ہوئی تھی، جن میں سے دو بعد میں مارے گئے، باقی 2 افراد نے اسے اس شدت پسند گروہ میں شامل کرایا اور اس کی ملاقات بشیر زئی سے کرائی۔
عثمان قاضی نے بتایا کہ یہ تمام تعارف ’ٹیلی گرام‘ کے ذریعے کروائے گئے، اور کوئٹہ آنے پر اس نے گروہ کی ہدایات پر 3 کارروائیوں میں سہولت فراہم کی۔
لیکچرار نے کہا کہ ڈاکٹر حبیطان اور فی خالق کی ہدایات کے مطابق گروہ کی مدد کی، ایک ایسے عسکریت پسند کو پناہ دی، جو قلات میں جھڑپ کے دوران زخمی ہوگیا تھا، میں نے اسے کسی اور شخص کے حوالے کر دیا تھا، اور اگلے دن وہ یہاں ریلوے خودکش دھماکے میں ہلاک ہوگیا۔پروفیسر نے کہا کہ اس نے ابتک 32خودکش بمبار تیار کئے ۔
اس نے ایک اور ایسا ہی واقعہ سنایا کہ جس شخص کو اس نے 7 سے 8 دن تک پناہ دی تھی، وہ 14 اگست کے کسی واقعے میں استعمال ہونے والا تھا، لیکچرار نے یہ بھی اقرار کیا کہ اس نے ایک پستول خریدا تھا جو سیکورٹی فورسز اور سرکاری ملازمین کو نشانہ بنانے میں استعمال ہوا۔
گرفتار لیکچرار نے کہا کہ یہ وہ کام ہیں جو میں نے کیے، یہ وہ سہولت کاری ہے جو میں نے کی، اگر دیکھا جائے تو ریاست نے مجھے اور میری اہلیہ کو عزت، وقار، نوکری سب کچھ دیا، لیکن اس کے باوجود میں نے قانون کی خلاف ورزی اور ریاست سے غداری کی۔
گرفتار ملزم نے کہا کہ مجھے گہری شرمندگی ہے کہ میں ان کارروائیوں میں شامل رہا اور اس پر افسوس ہے، اور اس ویڈیو کا مقصد یہ ہے کہ آنے والی نسلیں، نوجوان، یہاں کے طلبہ ان تنظیموں سے بچ سکیں جو بدامنی پھیلا رہی ہیں۔