فحش ویڈیوز بنانےوالی خاتون پولیس آفیسر نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کردیا
پولیس کے کام کو معاشرے میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے،لیکن بیکا نامی پولیس آفیسر یونیفارم پہن کر بیہودہ حرکتیں کرتی ہے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) انگلینڈ کی کائونٹی ویسٹ مڈلینڈز پولیس کی ایک خاتون آفیسر نے ملازمت چھوڑ دی ہے، لیکن وہ آج کل سوشل میڈیا پر فحش ویڈیوز بنانے کی وجہ سےموضوع بحث بنی ہوئی ہے،پولیس کے کام کو معاشرے میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے،حیران کن بات یہ ہے کہ وہ پولیس کی یونیفارم پہن کر بیہودہ حرکتیں کرتی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اگست میں ویسٹ مڈلینڈز پولیس کی بیکا نامی ایک خاتون آفیسر نے ملازمت سے استعفیٰ دینے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بالکل مختلف انداز میں نئے سفر کی شروعات کی اور وہ فحش مواد بنا کر تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہی ہے ۔پولیس کے کام کو معاشرے میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ لوگ بڑی مشکل سے اس نوکری کو حاصل کرتے ہیں ۔ لیکن ایک خاتون نے اپنی نوکری چھوڑ کر ایسا کیرئیر شروع کیا جس نے لوگوں کو چونکا دیا۔ اس برطانوی پولیس اہلکار نے نوکری چھوڑ دی اور فحش ویڈیوز بنانے لگی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ وہ یونیفارم پہن کر بیہودہ حرکتیں کرتی ہے۔ وہ اپنے متنازع مواد کے ذریعے تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہی ہیں۔ لوگ اب اسے “پولیس آفیسر بونی بلیو” کہنے لگے ہیں۔ بونی بلیو نے اس سال 12 گھنٹے میں 1000 سے زیادہ مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کا دعویٰ کرکے میڈیا کی توجہ اپنی طرف موڑ لی ہے ۔
بیکا کے انسٹاگرام پر تقریباً 19,000 فالوورز ہیں اور 15,000 سے زیادہ صارفین اسے TikTok پر فالو کرتے ہیں۔ اس بڑھتی ہوئی مقبولیت کا اندازہ ان کی وائرل ویڈیوز سے لگایا جا سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اپنی کئی ویڈیوز میں پولیس کی وردی پہنے نظر آتی ہیں۔ ایک ویڈیو میں، کالی شرٹ اور اونچی جیکٹ پہنے ہوئے، وہ کیمرے سے پوچھتی ہے، “میں پولیس آفیسر بونی بلیو بننے کے لیے تیار ہوں۔ اب، میرے 1,057 مجرم کہاں ہیں مجھے 12 گھنٹوں میں پکڑنا ہے؟” ان ویڈیوز سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس فورس چھوڑنے کے باوجود، بیکا نے اپنی نئی ملازمت کے حصے کے طور پر اپنی سابقہ شناخت کو برقرار رکھا ہے۔
اس حوالے سے ویسٹ مڈلینڈز پولیس کے ترجمان نے واضح کیا کہ ’’ہم ان سوشل میڈیا پوسٹس سے آگاہ ہیں اور یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بیکا اب حاضر سروس افسر نہیں ہیں ۔ انہوں نے اگست میں استعفیٰ دے دیا تھا اور اس کی تمام وردی اور سامان محکمہ کو واپس کر دیا گیا ہے۔اس کے باوجود، کچھ صارفین اب بھی الجھن میں ہیں. ایک فالوور نے پوچھا کہ اس کے پاس اب بھی نوکری کیسے ہے؟” جب کہ ایک اور نے تبصرہ کیا کہ کیا آپ کو اندازہ ہے کہ یہ ایک پولیس افسر کے لیے کتنا نامناسب ہے؟۔
یہ بھی پڑھیں:سیلابی پانی میں بہہ کر آنیوالے نایاب نسل کے پینگولین کو بیجاپور جنگل میں چھوڑ دیا گیا