مڈل کلاس طبقہ "برانڈز "کا دیوانہ، قرض لے کر امیر دکھنے کے شوق نے پاگل بنا دیا ، معاشی ماہرین

May 17, 2025 | 12:40:PM
مڈل کلاس طبقہ
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)ایک وقت تھا جب لگژری برانڈز جیسے کہ لوئی ویٹون، رولیکس، اور گوچی صرف امیر ترین لوگوں کے لیے مخصوص سمجھے جاتے تھے لیکن اب حالات بدل چکے ہیں، آج کل یہ عام بات ہے کہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد، تنخواہ دار پروفیشنلز، فری لانسرز اور انفلوئنسرز مہنگے برانڈز استعمال کرتے نظر آتے ہیں چاہے ان کو قرض ہی لینا کیوں نہ پڑے۔

معاشی ماہرین کے مطابق لگژری سستی نہیں ہوئی بلکہ مڈل کلاس کو امیر دکھنے کا شوق بڑھ گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق لگژری اشیاء کی 75 فیصد خریداری مڈل کلاس سے آتی ہے، 1995 میں لوئی ویٹون کا 40 ہزار روپے والا بیگ صرف پیسے والوں کے لیے ہوتا تھا، 2025 میں وہی برانڈ 2.8 لاکھ روپے کا بیگ 30 سالہ تنخواہ دار افراد کو قسطوں پر بیچ رہا ہے۔

مزید پڑھیں:روزانہ ایک آم کھائیں، تبدیلی خود محسوس کرینگے

ماہرین نے مزید کہا کہ لگژری سستی نہیں ہوئی بلکہ متوسط طبقہ امیر دکھنے کا عادی ہو چکا ہے، ان کے مطابق یہ تبدیلی آمدنی میں اضافے کی وجہ سے نہیں آئی بلکہ سوشل میڈیا، ہوشیار مارکیٹنگ، اور معاشرتی دباؤ نے یہ خواہش پیدا کی کہ لوگ کامیاب نظر آئیں چاہے وہ حقیقت نہ ہو۔

 لگژری انڈسٹری نے لوگوں کی ”اسٹیٹس“ اور مقبولیت کی خواہش کو اپنی مارکیٹنگ کا ہتھیار بنایا آج کل لوگ مہنگی گھڑیاں، ڈیزائنر بیگز یا برانڈڈ کپڑے آرام یا معیار کے لیے نہیں بلکہ تصویریں پوسٹ کرنے، فالوورز بڑھانے اور نمایاں ہونے کے لیے خریدتے ہیں۔

لیکن اس سب کے پیچھے ایک خفیہ قیمت بھی ہے، کئی لوگ یہ قیمتی اشیاء قسطوں یا کریڈٹ کارڈز پر خرید رہے ہیں جس سے قرض بڑھ رہا ہے اور بچت یا سرمایہ کاری کم ہو رہی ہے۔