مرادعلیشاہ کے نئے بجٹ کا حجم3562ارب،تعلیم کیلئے620 ارب ، صحت 393 ارب ، ترقیاتی بجٹ 385 ارب روپے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(اشرف خان) صوبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ آج شام سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں جو بجت پیش کر رہے ہیں وہ 3ہزار562ارب روپے کا ہے۔
مراد علی شاہ اپنی حکومت میں وزیر خزانہ بھی ہیں۔ اس حیثیت سے وہ بجٹ خود پیش کرتے ہیں۔ اس سال انہوں نے جو بجٹ پیش کیا ہے اس میں ترقیاتی بجٹ 720 ارب روپے، گزشتہ سال کے مقابلے میں 29 فیصد کم ہیں۔
صوبائی ترقیاتی پروگرام کے لیے 385 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
ضلعی اے ڈی پی کے لیے 15 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
مراد علی شاہ نےاخراجات کا مجموعی تخمینہ 2ہزار142 ارب روپے بتایا ۔
تعلیم کیلئے620 ارب روپے، صحت کیلئے 393 ارب روپے
تعلیم کے شعبے کے لیے 620 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ اور صحت کے شعبہ کیلئے کے لیے 393 ارب روپے مختص کئے ہیں۔
بلدیات کے شعبے کے لیے 155 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں اور امن و امان کے لیے 222 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
زراعت کے شعبے کے لیے 41 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔
کراچی میں بلیو لائن پروجیکٹ کیلئے22 ارب روپے
مراد علی شاہ نے بتایا کہ کراچی یلو لائن منصوبے کے لیے 22 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
رویونیو 555 ارب روپے اکٹھا کریں گے
مراد علی شاہ نے بتایا کہ سندھ نے آئندہ مالی سال کے لیے 555 ارب روپے محصولات کا ہدف مقرر کیا ہے۔
سندھ ریونیو بورڈ کو 456 ارب روپے وصولی کا ہدف دیا گیا ہے۔ محکمہ ریونیو کے لیے 42 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ایس آئی یو ٹی کے لیے 26 ارب روپے گرانٹ دینے کی تجویز ہے۔
سندھ پیپلز ہاؤسنگ اسکیم کے لیے خطیر فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔ اس کے تحت سندھ میں بے گھر شہریوں کو گھر بنا کر دیئے جا رہے ہیں۔
تھر کول منصوبوں کے لیے 10 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
لیاری ترقیاتی پیکج کے لیے 4 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔
شہید بے نظیر آباد ٹراما سینٹر کے لیے 4 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ کے ایم سی فائر بریگیڈ کی اپ گریڈیشن کے لیے 3.8 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔
ریسکیو 1122 کے لیے 1 ارب 70 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
سندھ کا ترقیاتی پروگرام 385 ارب روپے
سندھ کےمجموعی 3562 ارب روپے مالیت کے بجٹ میں جاری اخراجات کے لیے 2560 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔
موجودہ کپیٹل اخراجات کی مد میں 281 ارب 67 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لئے 385 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔
فارن اسسٹنس سے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لئے 256 ارب روپے رقم مختص کی گئی ہے ۔
وفاق سے مجموعی گرانڈ کی مد میں 64 ارب روپے کی رقم مختص ہے۔
مجموعی ریوینیو 2263 ارب روپے
نئے مالی سال سندھ بجٹ میں مجموعی ریونیو وصولی 2263 ارب 18 کروڑ روپے رقم مختص کئے گئے ہیں۔
صوبائی ٹیکس وصولی سے 234 ارب 6 کروڑ روپے کا ریوینیو مختص کیا گیا ہے۔
خدمات پر سیلز ٹیکس اور زرعی ٹیکس سے 456 ارب روپے کی آمدنی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ موجود کپیٹل آمدنی سے 68.34 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔
دیگر ذرائع سے نئے مالی سال بجٹ میں 328 ارب روپے کا ریوینیو حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
گزشتہ سال میں بچائے گئے کیش بیلنس کے 90 ارب روپے بھی نئے مالی سال کی آمدنی میں شامل ہوں گے۔
نئے مالی سال سندھ بجٹ میں 3525 ارب روپے کی آمدنی مختص کی گئی ہے ۔
یہ بھی پرھیئے: سندھ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ؛ کم از کم اجرت 43ہزار مقرر