امریکا ایران امن معاہدے:سونے کی قیمت میں مسلسل پانچویں روز اضافہ

Jun 17, 2026 | 08:42:AM
امریکا ایران امن معاہدے:سونے کی قیمت میں مسلسل پانچویں روز اضافہ
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)سونے کی قیمتوں میں مسلسل پانچویں سیشن کے دوران اضافہ دیکھا گیا  کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے حوالے سے بڑھتی ہوئی امیدوں نے امریکی شرحِ سود میں اضافے کی توقعات کو کمزور کر دیا، سرمایہ کار اب معاہدے کی مزید تفصیلات اور امریکی فیڈرل ریزرو کے پالیسی اجلاس کے فیصلے کے منتظر ہیں۔

بدھ کے روز اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 4,341.12 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جبکہ اگست ڈیلیوری کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 0.2 فیصد بڑھ کر 4,361.10 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہوئے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان زیر غور عبوری معاہدہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے گا۔ ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت مل سکتی ہے۔

معاہدے کی خبروں کے بعد تیل کی قیمتیں تقریباً تین ماہ کی کم ترین سطح کے قریب رہیں، کیونکہ عالمی منڈیوں میں ایرانی تیل کی ممکنہ واپسی سے افراطِ زر کے دباؤ میں کمی کی توقع پیدا ہوئی ہے۔

تجزیہ کار ایلیا اسپیواک کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی نے شرحِ سود پر اوپر کی جانب دباؤ کم کیا ہے اور مزید شرحِ سود بڑھنے کی توقعات کو ٹھنڈا کیا ہے۔ تاہم سونے کی قیمتوں میں جاری تیزی اب سست پڑتی دکھائی دے رہی ہے کیونکہ مارکیٹ کی نظریں فیڈرل ریزرو کے پالیسی فیصلے پر مرکوز ہیں۔

سرمایہ کاروں کی توجہ آج فیڈرل ریزرو کے شرحِ سود کے فیصلے اور پالیسی بیان پر ہے، جہاں شرحِ سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

مارکیٹ میں یہ بھی بحث جاری ہے کہ فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی (FOMC) کے نئے چیئرمین کیون وارش بڑھتی ہوئی مہنگائی، سخت گیر مالیاتی مؤقف اور وائٹ ہاؤس کی نرم پالیسی اختیار کرنے کی خواہش کے درمیان کس طرح توازن قائم کریں گے۔

سی ایم ای فیڈ واچ ٹول کے مطابق دسمبر میں امریکی شرحِ سود میں اضافے کے امکانات 59 فیصد رہ گئے ہیں، جو گزشتہ ہفتے تقریباً 70 فیصد تھے۔

یہ بھی پڑھیں:جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کی بحالی،عالمی مارکیٹ میں تیل مزید سستا ہوگیا

چونکہ سونا کوئی منافع یا سود نہیں دیتا  اس لیے بلند شرحِ سود عام طور پر اس کی کشش کو کم کر دیتی ہے۔

ویسٹ پیک کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طویل مدت میں ایشیائی طلب اور مرکزی بینکوں کی جانب سے جغرافیائی و پالیسی خطرات کے خلاف تحفظ کے طور پر مسلسل خریداری سونے کی قیمتوں کو سہارا فراہم کرتی رہے گی۔

دیگر قیمتی دھاتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، چاندی 0.3 فیصد بڑھ کر 70.38 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 0.5 فیصد اضافے کے ساتھ 1,812.80 ڈالر فی اونس اور پیلیڈیم 0.3 فیصد بڑھ کر 1,355.65 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا۔