شدیدبارشیں، کلاؤڈ برسٹ،ندی نالوں میں طغیانی،رین ایمرجنسی نافذ،ڈیم ٹوٹ گیا،چھٹی کااعلان

پاک فوج کا ریسکیو آپریشن، چکوال میں فلڈ ایمرجنسی نافذ ،تاریخی کٹاس راج مندر میں بھی پانی داخل،راول ڈیم بھرگیا،سپل ویزکھولے جانے کاامکان

Jul 17, 2025 | 10:08:AM
شدیدبارشیں، کلاؤڈ برسٹ،ندی نالوں میں طغیانی،رین ایمرجنسی نافذ،ڈیم ٹوٹ گیا،چھٹی کااعلان
کیپشن: بارش اورسیلابی صورتحال میں لوگوں کوریسکیوکیاجارہاہے
سورس: 24 News
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)راولپنڈی میں موسلادھار بارش کے بعد نالہ لئی میں شدید سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی اورپانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو گئی، جس پر گوالمنڈی نالہ لئی برج پر خطرے کے سائرن بج گئے،موسمیاتی حالات کے پیش نظر ضلع راولپنڈی میں ایک یوم کی چھٹی کااعلان کردیاگیاہے اورڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے چھٹی کا نو ٹیفیکیشن  بھی جاری کر دیاہے،چکوال میں دھرابی کے مقام پر چھوٹا ڈیم ٹوٹ گیااورقریب واقع آبادیوں میں بڑے سیلاب کا خطرہ ہے۔

واسا اور ضلعی انتظامیہ کے مطابق گوالمنڈی کے مقام پر نالہ لئی میں پانی کی سطح 15 فٹ تک پہنچ چکی ہے جبکہ 20 فٹ کی حد عبور ہونے کی صورت میں قریبی آبادیاں خالی کرانے کا عمل شروع کیا جائے گا،اسی طرح کٹاریاں پل پر پانی کی سطح 13 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے،شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی بھرنے سے سینکڑوں افراد محصور ہو گئے  جبکہ نقل مکانی فی الحال ممکن نہیں رہی،متاثرہ علاقوں میں مہر کالونی، ڈھوک حسو، پیرودھائی، خیابان سر سید، فوجی کالونی اور ڈھوک مٹکیال شامل ہیں،متذکرہ علاقوں کے کئی گھروں میں بارش کا پانی داخل ہو چکا ہے جبکہ بعض مقامات پر رابطہ پل مکمل طور پر زیر آب آ گئے ہیں، شہریوں کو انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے اور بلند مقامات پر منتقل ہونے کی اپیل کی جا رہی ہے۔

شدیدبارشوں کے باعث راول ڈیم بھی بھر گیا،راول ڈیم میں پانی کا ذخیرہ 17 سو 47 ایکڑ فٹ پر پہنچ گیا جبکہ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 17 سو 52 ایکڑ فٹ ہے اس لئے  اگلے 24 گھنٹوں میں راول ڈیم کے سپل ویز کھولے جانے کا امکان ہے،بارش کے باعث راولپنڈی میں ٹریفک بری طرح متاثر ہے، مساجد میں اعلانات کیے جا رہے ہیں کہ لوگ گھروں سے غیر ضروری باہر نہ نکلیں۔

ریسکیو ، واسا، سول ڈیفنس سمیت تمام اداروں کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے، ایم ڈی واسا نے ٹرپل ون بریگیڈ سے بھی رابطہ کیا ہے جبکہ ایمرجنسی کی صورت میں پاک فوج کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،این ڈی ایم اے نے مون سون بارشوں میں ہونیوالے نقصانات کی رپورٹ بھی جاری کر د ی ہے۔

پی ڈی ایم اے پنجاب نے راولپنڈی میں رین ایمرجنسی کے نفاذ کے احکامات جاری کردیئے ہیں،ڈی جی پی ڈی ایم اے کاکہناہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے پیشِ نظر راولپنڈی میں رین ایمرجنسی کا نفاذ کر دیا گیا ہے،نالہ لئی کے اطراف نشیبی علاقوں کے رہائشی انخلاء کی صورت میں انتظامیہ سے تعاون کریں ،نالہ لئی کے اطراف جمع ہونے اور نہانے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی،شہری موسمی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں ۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے 24گھنٹوں میں ملک کے مختلف علاقوں میں مزیدبارشوں کا خدشہ ظاہر کردیاہے، ترجمان این ڈی ایم اے کاکہنا ہے کہ شدید بارشوں سے شہروں میں سیلابی صورتحال اور ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے،لاہور،چکوال، اٹک، جہلم، خوشاب، سرگودھامیں آندھی طوفان سمیت شدید بارش کا امکان ہے،اس کے علاوہ گجرات، گوجرانوالہ، فیصل آباد، سیالکوٹ، نارووال، اوکاڑہ، قصور، شیخوپورہ اور حافظ آباد میں بھی شدید بارش کا امکان ہے۔

 یہ بھی پڑھیں:پاکستان کا غزہ میں امداد اور ایندھن کی فوری فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ

جہلم اور چکوال میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں زائد لوگ سیلابی پانی میں پھنس گئے ہیں،جہلم کے ڈھوک بدر گاؤں میں برساتی نالے کا پانی داخل ہونے سے40سے زائد لوگ پانی میں پھنس گئے،پاک فوج کے ریسکیوآپریشن میں 10افراد کو بچا لیاگیااورریسکیوآپریشن جاری ہے،پاک فوج کی ریسکیو ٹیم ہیلی کاپٹر کے ذریعے امدادی کارروائی میں مصروف ہے،متاثرین کو لائف جیکٹس فراہم کردی گئی ہیں،مقامی انتظامیہ اورپاک فوج مشترکہ طور پر صورت حال کی نگرانی کر رہے ہیں،نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو ہوشیار رہنے اور ہدایات پر عمل کی اپیل کی گئی ہے۔ 
ڈپٹی کمشنر جہلم کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز نالے کے قریب مکینوں کو بتادیا تھا کہ محفوظ مقام پر منتقل ہوں، دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر شدید سیلاب کا خدشہ ہے، پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ نے ہائی الرٹ جاری کردیاہے، اعلامیے کے مطابق دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر 3 لاکھ 50 ہزار کیوسک تک سیلابی ریلے کی آمد متوقع ہے۔
پی ڈی ایم اے حکام کے مطابق چکوال میں 400ملی میٹرسےزائد بارش ہوچکی ہے، گذشتہ 24 گھنٹوں کےدوران چکوال میں ریکارڈ بارش کے باعث سیلابی صورتحال ہے، سیلابی پانی میں پھنسے شہریوں کونکالنے کیلئے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

چکوال میں کلاؤڈ برسٹ اور 423 ملی میٹر بارش کے بعد فلڈ ایمرجنسی اور ہنگامی صورتحال نافذ کردی گئی،خان پور بازار میں موجود دکانوں میں 4 فٹ تک پانی جمع ہوگیا جبکہ چوآسیدن شاہ میں واقع تاریخی کٹاس راج مندر میں بھی بارش کا پانی داخل ہوگیا،ریسکیو ترجمان کے مطابق چوآسیدن شاہ شہر سے گزرنے والا برساتی نالہ بپھر گیا اور پانی قریب واقع آبادیوں میں داخل ہوگیا جس کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں،ضلع بھر میں قائم درجنوں چھوٹے ڈیموں کا پانی اوور فلو ہونے کے بعد سیلابی ریلے کی صورت میں بہنے لگا جس سے قریبی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی جبکہ برساتی نالوں میں بھی شدید طغیانی آگئی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق بارش کے باعث چھوٹا ڈیم بھر گیا جس کے ٹوٹنے کا خدشہ ہے، موجودہ صورتحال کے پیش نظر دوسرے اضلاع سے ریسکیو ٹیموں کو بلایا گیا ہے۔
علاوہ ازیں تکیہ شاہ مراد میں آبی ریلے کے باعث خان پور ڈھوک ٹاہلیاں روڈ اکھڑ گیا جو حال ہی میں تعمیر کیا گیا تھا۔

دوسری طرف کشمور میں دریائے سندھ میں گڈو بیراج کے مقام پر مزید پانی کی سطح بلند ہوگئی ہے اوروہاں گزشتہ چار دن سے درمیانے درجے کا سیلاب برقرار  ہے۔کنٹرول روم کے مطابق گڈوبیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 92 ہزار 084 کیوسک اوراخراج 3 لاکھ 53 ہزار 042 کیوسک ریکارڈ کیا گیاہے،گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 9 ہزار 967 کیوسک پانی کی سطح بلند ہوئی ہے۔
 کنٹرول روم کے مطابق پانی کی سطح بلند ہوتے ہی دریا کے کنارے پر موجود مزید دیہات زیرآب آگئے ہیں اورآئندہ چند گھنٹوں کے دوران مزید پانی کی سطح بلند ہونے کا امکان ہے۔