افغانستان نے  اپنی معیشت کا ماڈل  رینٹ اے  ٹیرریسٹ پر کھڑا کر لیا ہے  ؛ڈاکٹر شازیہ انور 

جب افغان عبوری حکومت قائم ہوئی  تو خیال تھا یہ حکومت پہلی طالبان رجیم سے مختلف ہوگی ،ایئر وائس مارشل (ر) اعجاز محمود 

Oct 16, 2025 | 22:51:PM
افغانستان نے  اپنی معیشت کا ماڈل  رینٹ اے  ٹیرریسٹ پر کھڑا کر لیا ہے  ؛ڈاکٹر شازیہ انور 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز) ماہر بین الاقوامی امور ڈاکٹرشازیہ انور چیمہ نے کہا کہ پاکستان کو افغانستان کے ساتھ دو ٹوک بات کرنی چاہیے،افغان حکومت کو چاہیے کہ اپنے آپ کو ایک جمہوری حکومت کی طرح پیش کرے،افغانستان کے جو اندرونی معاملات ہیں وہ بہت تشویشناک ہیں،  وہاں کے مختلف گروپ سونے کی کانوں کیلئے آپس میں لڑ پڑے ہیں  اور یہ لڑائی شدید ہوتی جارہی ہے ۔

24نیوز کے پروگرام گونج میں مسعود رضا کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹرشازیہ انور چیمہ کاکہناتھا کہ افغان حکومت کو ہر گروپ کو یہ سمجھانا چاہیے کہ  انہیں پائیدار معاشی استحکام چاہیےجس کیلئے پاکستان انہیں ہمیشہ رہنمائی فراہم کرتا ہے اور دوسرے ممالک جیسے چائنا اور روس کو بھی آپ کے ساتھ شامل کر رہا ہے ۔اور یہ اس لیے کیا جاتا ہے کہ آپ نے جو اپنی معیشت  کا ماڈل  رینٹ اے  ٹیرریسٹ پر کھڑا کر لیا ہے  آپ اس کو چھوڑ دیں گے۔لیکن دیکھنے میں یہ آرہا ہے کہ آپ کو یہ شارٹ ٹرم ماڈل ہی پسند ہے ۔اس کا ثبوت یہ  ہےکہ  یہ جو پاکستان کے خلاف آپ نے جارحیت کی ہے یہ آپ نے انڈیا سے پیسے لے کر اور ان سے وعدے کر کے کی ہے ورنہ آپ کے  مقاصد کیا تھے ، کیا آپ نے پاکستان کو فتح کر لینا تھا  اس کا تو پاکستان نے آپ کو جواب دے دیا اور ایسا دیا کہ آپ سفید جھنڈے لہرا لہرا کر سیز فائر کی درخواست کر رہے تھے۔

دفاعی تجزیہ کاربریگیڈیئر (ر) غضنفر علی نے کہا کہ افغانستان میں دو بڑے گروپ ہیں ایک قندھاری اور دوسرا حقانی جن میں لڑائی چل رہی ہے۔اور پاکستان نے تو اطمینان کا سانس لیا تھا جب امریکہ افغانستان سے واپس گیا تھا اور طالبان کی عبوری حکومت قائم ہوئی تھی اور اس کے جواب میں انہوں نے پہلا کام یہ کیا تھا کہ تمام جیلوں کے دروازے کھول دیے تھے اور وہ تمام لوگ جو پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث تھےاور پکڑے گئے تھے آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں  ان سب کو رہا کر دیا گیا۔پھر اس حکومت نے کہا کہ پاکستان تحریک طالبان افغانستا ن سے بات چیت کرے جس پر پاکستان نے بات چیت شروع بھی کی لیکن بے نتیجہ رہی  کیوں کہ وہ ہتھیار نہیں پھینک رہے تھے  لیکن اس بات چیت کا آغاز کیسے ہوا کیونکہ  عبوری حکومت ان سے رابطے میں تھی اوراقوام متحدہ کی رپورٹ کہتی ہے کہ حقانی گروپ کو یہ عبوری حکومت لاجسٹک اور مالی سپورٹ دے رہی ہے ۔افغانستان کی عبوری حکومت  ان فتنہ الخوارج کے ساتھ ملی ہوئی ہے کیونکہ ان کی پرورش ہی دہشت گردی کے ساتھ ہوئی ہے ۔یہ لیڈر شپ پیسے پر بک جاتی ہے اور آج بھی یہ 142 ملین ڈالر امریکہ سے لے رہے ہیں ۔

ایئر وائس مارشل (ر) اعجاز محمود نے کہا کے جب افغان عبوری حکومت قائم ہوئی  تو کچھ لوگوں کا  یہ اندازہ تھا کہ  یہ حکومت پہلی طالبان رجیم سے مختلف ہوگی ،انہیں سفارت کاری کا پتہ ہوگایہ اپنی عوام کی  معاشی خوشحالی کے لیے دنیا سے رابطے کریں گے لیکن بد قسمتی سے حقائق اس  سے مختلف ہیں  جبکہ پاکستان کا یہ خیال تھا کہ ہمارے بارڈر پر امن ہو اور ایک ایسی حکومت  قائم ہو جو اپنے لوگوں کے لیے کام کرےاور حالات بہتر ہونے پر پاکستان میں موجود افغان مہاجرین آہستہ آہستہ واپس جائیں کیونکہ اب کئی سالوں سے ان مہاجرین کابوجھ پاکستان کی معیشت اٹھا رہی ہے اور اس مد میں پاکستان کو کوئی غیر ملکی فنڈز نہیں ملتے ۔افغان حکومت نے پاکستان کی اس خواہش اور جذبے کو کمزوری سمجھا اور انہوں نے اپنا جھکاو انڈیا کی طرف دکھایااس کا مقصد شاید یہ تھا کہ جب وہ اپنا جھکاو انڈیا کی طرف دکھائیں گے تو پاکستان ان کو اسپیس دے گالیکن ایسا نہیں ہے پاکستان نے ان کی خوش فہمی دور کر دی سیز فائر تو وہ 12 اکتوبر سے مانگ رہے تھے لیکن پاکستان نے ان کو اچھا سبق سکھایا اور پھر کل پاکستان نے  سیز فائر پر آمادگی ظاہر کی ۔

دیگر کیٹیگریز: پاکستان - قومی
ٹیگز: