حکومت پنجاب کا ریاستی رٹ چیلنج کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا فیصلہ 

Oct 16, 2025 | 19:05:PM
حکومت پنجاب کا ریاستی رٹ چیلنج کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا فیصلہ 
کیپشن: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)وزیر اعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت امن وامان سے متعلق دوسرا غیر معمولی اجلاس ہوا،پنجاب حکومت نے احتجاج کے نام پر خون ریزی، شرانگیزی اور فتنہ و فساد پھیلانے والوں کے خلاف آہنی گھیرا مزید تنگ کرنے کا فیصلہ  کیا گیا۔

حکومت پنجاب نے ریاستی رٹ چیلنج کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا فیصلہ  کیا ہے۔پنجاب حکومت نے عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ پر 400 لاشوں والے اشتعال انگیز  جھوٹے بیان پر پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

پنجاب حکومت نے واضح کر دیا کہ ریاست کا ہدف فساد ہے کوئی مذہبی جماعت یا عقیدہ  نہیں،  کارروائیاں صرف اُن کے خلاف ہیں جو امن برباد کرنے کی تاریخ کے حامل ہیں۔پنجاب میں مساجد کے منبروں اور مدارس کے فورمز کو نفرت،انتشار یا تشدد کے فروغ کیلئے استعمال کرنے والوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج ہونگے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مدارس کے تقدس کو مجروح کرنے اور بچوں کے ذہنوں میں نفرت یا تشدد کے بیج بونے والوں کے خلاف دہشت گردی کے قوانین کے تحت کارروائی ہوگی۔پنجاب حکومت نے احتجاج کے دوران کیل والے ڈنڈوں ،پیٹرول بم اور ہر قسم کے اسلحہ کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی۔

یہ بھی پڑھیں:2025 میں سب سے زیادہ رکھے جانیوالے بچوں کے ناموں کا اعلان

پنجاب حکومت نے لاؤڈ سپیکر قوانین کی خلاف ورزی پر فوری کارروائی کا فیصلہ  کیا ہے،پنجاب بھر میں سیکشن 144 نافذ  عمل ہے خلاف ورزی پر دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج ہونگے ۔

پنجاب حکومت نے انتہا پسند جتھوں کے سہولت کاروں اور حامیوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کا فیصلہ کیا ہے،بازار، دکانیں یا ٹرانسپورٹ زبردستی بند کرانے والوں پر دہشتگردی ایکٹ لاگو ہوگا،سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمات درج ہونگے ۔

اجلاس میں شوشل میڈیا پر شر انگیزی، نفرت اور فتنہ پھیلانے والوں کیلئے زیرو ٹالرنس پالیسی نافذکرنے کا فیصلہ کیاگیا۔انتہا پسند گروہوں کی ہر غیر قانونی سرگرمی پر مکمل پابندی عائدہو گی،سیکیورٹی اداروں کو فوری ایکشن کے اختیارات تفویض کر دیئے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ بار انتخابات؛عاصمہ جہانگیر اور حامد خان گروپ میں سے کس کا صدارتی امیدوار آگے؟نتائج جانیے