پنجاب فنانس بل: زرعی انکم ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس اور لوڈر گاڑیوں کے ٹیکس میں اضافے کی تجاویز
Stay tuned with 24 News HD Android App
(حسان علی)پنجاب فنانس بل میں پراپرٹی ٹیکس، زرعی انکم ٹیکس، نہری پانی کے نرخوں اور لوڈر گاڑیوں کے ٹیکس میں اہم تبدیلیوں کی تجاویز شامل کی گئی ہیں۔
بل کے مطابق پراپرٹی ٹیکس کی ادائیگی میں تاخیر پر ماہانہ جرمانہ عائد کرنے کے بجائے سہ ماہی بنیاد پر ٹیکس کے ساتھ جرمانہ وصول کرنے کی تجویز دی گئی ہے،زرعی انکم ٹیکس میں اضافے کی تجویز کے تحت ساڑھے 12 ایکڑ سے زائد زرعی اراضی رکھنے والے زمینداروں پر ایک ہزار روپے فی ایکڑ کے حساب سے ٹیکس عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
اس سے قبل ساڑھے بارہ سے 25 ایکڑ تک زمین رکھنے والے زمینداروں سے 300 روپے فی ایکڑ زرعی انکم ٹیکس وصول کیا جا رہا تھا، جبکہ 25 سے 50 ایکڑ پر 400 روپے فی ایکڑ اور 50 ایکڑ سے زائد اراضی رکھنے والوں سے 500 روپے فی ایکڑ ٹیکس لیا جا رہا تھا،بل میں نہری باغات پر ٹیکس 600 روپے سے بڑھا کر ایک ہزار روپے فی ایکڑ اور بارانی باغات پر ٹیکس 300 روپے سے بڑھا کر 500 روپے فی ایکڑ کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس میں 99 فیصد چھوٹ دینے کی سفارش کی گئی ہے۔
حکومت نے فصل کی بنیاد پر نہری پانی کی قیمت وصول کرنے کے بجائے فلیٹ ریٹ نظام متعارف کرانے کی تجویز دی ہے۔ خریف سیزن کے لیے نہری پانی کی قیمت 1,650 روپے فی ایکڑ جبکہ ربیع سیزن کے لیے 850 روپے فی ایکڑ مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
سرکاری یا نجی لفٹ اریگیشن کے ذریعے پانی کے استعمال پر 2,250 روپے فی ایکڑ سالانہ کی شرح سے ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بھی بل کا حصہ ہے۔
دوسری جانب لوڈر گاڑیوں کے ٹیکس میں بھی اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔ 4,060 کلوگرام سے 8,120 کلوگرام وزن اٹھانے کی استعداد رکھنے والی لوڈر گاڑیوں کا سالانہ ٹیکس 2,200 روپے سے بڑھا کر 6,600 روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
8,120 کلوگرام سے 12,000 کلوگرام وزن اٹھانے والی لوڈر گاڑیوں کا ٹیکس 4,000 روپے سے بڑھا کر 12,000 روپے، 12,000 کلوگرام سے 16,000 کلوگرام وزن اٹھانے والی گاڑیوں کا ٹیکس 6,000 روپے سے بڑھا کر 18,000 روپے اور 16,000 کلوگرام سے زائد وزن اٹھانے والی گاڑیوں کا ٹیکس 8,000 روپے سے بڑھا کر 24,000 روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکا کو ایران کیساتھ ممکنہ معاہدے پر تحفظات، سی آئی اے ڈائریکٹر کی صدر ٹرمپ کو رپورٹ