مخصوص نشستوں پر بحال ارکانِ قومی اسمبلی کو ایک سال سے زائد کی تنخواہیں ادا

Jan 16, 2026 | 19:07:PM
مخصوص نشستوں پر بحال ارکانِ قومی اسمبلی کو ایک سال سے زائد کی تنخواہیں ادا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) مخصوص نشستوں پر بحال ہونے والے ارکانِ قومی اسمبلی کو ایک سال سے زائد عرصے کی بقایا تنخواہیں ادا کر دی گئی ہیں۔

ذرائع قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق تنخواہیں وصول کرنے والوں میں 16 خواتین اور 3 اقلیتی ارکانِ قومی اسمبلی شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق بحال ارکانِ اسمبلی کو مجموعی طور پر تقریباً 6 کروڑ روپے ادا کیے گئے ہیں جبکہ ہر رکن کو اوسطاً 33 لاکھ روپے کی تنخواہ ملی ہے، بحال ارکان کو 13 ماہ اور 19 دن کی تنخواہیں ادا کی گئی ہیں۔

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ادائیگیاں وزارتِ قانون کی رائے حاصل کرنے کے بعد کی گئیں تاہم بقایا تنخواہوں پر بھاری ٹیکس بھی عائد کیا گیا  جس کے تحت 35 فیصد انکم ٹیکس اور 9 فیصد سرچارج وصول کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق ارکان کی تنخواہوں سے مجموعی طور پر 4 کروڑ 32 لاکھ روپے ٹیکس کاٹا گیا، جبکہ بقایا تنخواہوں پر 24 لاکھ روپے کی کٹوتی بھی کی گئی۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 13 مئی 2024 کو مخصوص نشستوں کے ارکان کو معطل کیا تھا، جنہیں بعد ازاں 2 جولائی 2025 کو بحال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن ثمینہ خالد گھرکی چونکہ تین ماہ بعد بحال ہوئیں،اس لیے انہیں صرف 3 لاکھ روپے کی تنخواہ ادا کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر کس نے بنوایا؟ سینیٹر کا حیران کن دعویٰ