بنگلہ دیش: جماعتِ اسلامی کی قیادت میں انتخابی اتحاد، 253 نشستوں پر انتخابی معاہدہ طے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)بنگلہ دیش میں آئندہ قومی پارلیمانی انتخابات کے لیے جماعتِ اسلامی کی قیادت میں قائم 10 جماعتی اتحاد نے نشستوں کی تقسیم پر اتفاق کا اعلان کر دیا ہے۔
اس اتفاق رائے کے تحت 300 میں سے 253 حلقوں میں امیدوار کھڑے کیے جائیں گے، تاہم اس اتحاد کو ’11 جماعتی انتخابی اتحاد‘ قرار دیا جا رہا ہے، حالانکہ اہم اسلامی سیاسی جماعت، اسلامی اندولن بنگلہ دیش، تاحال اس معاہدے میں شامل نہیں ہوئی۔
یہ اعلان گذشتہ شب ڈھاکا میں انسٹی ٹیوشن آف ڈپلومہ انجینیئرز میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا۔
اتحاد کے رہنماؤں کے مطابق اسلامی اندولن بنگلہ دیش کے لیے 47 نشستیں خالی رکھی گئی ہیں اور امید ظاہر کی گئی ہے کہ یہ جماعت جلد یا بدیر اتحاد کا حصہ بن جائے گی۔
نشستوں کی تقسیم کے مطابق بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی 179 حلقوں میں اپنے امیدوار میدان میں اتارے گی، جب کہ نیشنل سٹیزن پارٹی 30، بنگلہ دیش خلافت مجلس 20، خلافت مجلس 10 جبکہ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے 7 امیدوار انتخابات میں حصہ لیں گے۔
Just Now : Jamaat Lead 11 Party ( Mostly Islamic) Announces Their Mahagatbandhan To Stop BNP In Election
— বাংলার ছেলে ???????? (@iSoumikSaheb) January 15, 2026
And Guess What One Of Biggest Islamic Party Islami Andolan Boycotted The Press Conference Due To Seat Demand Differences.
Jamaat Will Fight In 179 Seats
NCP 30
Khilafat 30… pic.twitter.com/aexo0ualZK
دوسری جانب اتحاد میں شامل اے بی پارٹی 3، بنگلہ دیش ڈیولپمنٹ پارٹی 2 اور نظامِ اسلام پارٹی بھی 2 نشستوں پر انتخاب لڑیں گی، اس کے علاوہ بنگلہ دیش خلافت اندولن اور نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی اتحاد کا حصہ تو رہیں گی، تاہم وہ کسی حلقے میں امیدوار کھڑے نہیں کریں گی۔
یہ بھی پڑھیں:سمندرپرہوں یاآسمان پر گرفتار کیا جائے،عدالت کا حکم آگیا
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعتِ اسلامی کے نائب امیر سید عبداللہ محمد طاہر نے کہا کہ یہ انتخابات محض اقتدار کی تبدیلی کا معاملہ نہیں بلکہ وجود کے تحفظ اور ایک نئے بنگلہ دیش کی تعمیر کی جدوجہد ہے۔
بعد ازاں جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے وضاحت کی کہ اسلامی اندولن کی غیر موجودگی کے باوجود اتحاد ٹوٹا نہیں ہے اور بات چیت کا عمل جاری ہے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسلامی اندولن آخرکار اتحاد میں شامل ہو جائے گی۔
دوسری جانب اسلامی اندولن بنگلہ دیش نے اعلان کیا ہے کہ وہ جمعہ کی دوپہر اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لیے الگ بریفنگ دے گی، پارٹی کے ایک سینیئر رہنما نے میڈیا کو بتایا کہ جماعتِ اسلامی کے ساتھ حتمی معاہدے کے امکانات ’انتہائی کم‘ ہیں۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں تعطل کی بنیادی وجہ نشستوں کی تقسیم بنی، اسلامی اندولن نے ابتدا میں 80 نشستوں کا مطالبہ کیا تھا، جو بعد میں 70 تک کم کر دیا گیا، جب کہ جماعتِ اسلامی 45 نشستوں سے زیادہ دینے پر آمادہ نہیں تھی۔
مزید پڑھیں:پیٹرول پر فی لیٹر لیوی 84 روپے 27 پیسےمقرر،پریشان کن خبر آ گئی
آخری لمحات میں ثالثی کی کوششوں کے باوجود کوئی سمجھوتہ نہ ہو سکا،اسی تناظر میں اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے 10 جماعتوں نے 47 نشستیں اسلامی اندولن کے لیے مختص کر کے اعلان آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات 12 فروری 2026 کو منعقد ہوں گے، جن کے ساتھ آئینی اصلاحات پر ریفرنڈم بھی ہوگا۔ ملک بھر میں مجموعی طور پر 2,568 کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے جا چکے ہیں، جبکہ 20 جنوری کو دستبرداری کی آخری تاریخ مقرر ہے۔
اتحاد کے معاہدے سے قبل جماعتِ اسلامی 276 اور اسلامی اندولن 272 حلقوں میں امیدوار نامزد کر چکی تھیں، جب کہ دیگر اتحادی جماعتوں نے بھی نامزدگیاں جمع کرائیں، جن سے طے شدہ حلقوں میں دستبرداری متوقع ہے۔
مزید پڑھیں:عوام کیلئے پریشان کن خبر،20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں بڑا اضافہ
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس جزوی اتحاد کے انتخابی اثرات پر ابھی حتمی رائے دینا قبل از وقت ہے۔ اگرچہ جماعتِ اسلامی ایک وسیع اتحاد بنانے میں کامیاب ہو گئی ہے، تاہم اسلامی اندولن جیسی بڑی اسلامی سیاسی قوت کی علیحدہ شناخت اتحاد کے مشترکہ ووٹ بینک کو کمزور کر سکتی ہے۔