لاہور میں ہر تین میں سے ایک شخص بند ناک، گلے میں خراش کا شکار ہے:ڈاکٹر خالد منیر
Stay tuned with 24 News HD Android App
لاہور ( ویب ڈیسک)ای این ٹی سپیشلسٹ پروفیسر ڈاکٹر خالد منیر چیمہ کا کہنا تھا کہ سموگ کا زیادہ بوجھ عموماً صبح سویرے اور شام کو سورج غروب ہونے کے وقت ہوتا ہے، ان دونوں اوقات میں مریضوں اور عام افراد کو کم سے کم ایکسپوژر لینا چاہیے، اگر صبح اٹھتے ہی آپ کی ناک بند ہو رہی ہو یا گلے میں خراش محسوس ہو رہی ہو تو یہ جان کر آپ کو حیرت ہوگی کہ آپ اکیلے نہیں ہیں،لاہور میں ہر تین میں سے ایک شخص اس مسئلے کا شکار ہے۔
24نیوزکے پروگرام’’مارننگ ودفضا‘‘میں میزبان فضاعلی کے ساتھ گفتگوکرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر خالد منیر چیمہ نے کہا کہ ہر تین میں سے ایک فرد کو صبح نیند سے بیدار ہونے پر ناک بند ہونے کی شکایت ہوتی ہے، اس کا تعلق بیکٹیریا سے نہیں ہوتا بلکہ ہم جس ماحول میں سانس لیتے ہیں وہاں مختلف الرجیز ہو سکتی ہیں، گرد و غبار اس کی وجہ بن سکتا ہے اور جن گھروں میں پالتو جانور ہوتے ہیں وہ بھی الرجی کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ سردی کے موسم میں ہم جو ہیٹر استعمال کرتے ہیں اس سے ہمارا ماحول نسبتاً خشک ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹر خالد منیر چیمہ نے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ کچھ لوگ ناک کے اسپرے استعمال کرتے ہیں جن کی کئی اقسام ہیں اور یہ عام طور پر تجویز بھی کیے جاتے ہیں، جبکہ لوگ خود سے بھی ان کا استعمال شروع کر دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے ڈی کنجسٹنٹ اسپرے ہوتے ہیں جو ناک کی جھلی کی سوزش کو فوری طور پر کم کرتے ہیں، لیکن اگر یہ خود سے استعمال کیے جائیں تو ان کی عادت بھی پڑ سکتی ہے، اسی لیے ماہر ڈاکٹر انہیں صرف تین سے پانچ دن تک استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، چونکہ ان سے فوری آرام ملتا ہے اس لیے مریض مسلسل استعمال کرنے لگتا ہے جس سے آہستہ آہستہ عادت پڑ جاتی ہے اور اس سے ناک کی جھلی کو ناقابلِ واپسی نقصان بھی ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر خالد منیر چیمہ نے کہا کہ دوسرے نمبر پر اسٹرائیڈل اسپرے آتے ہیں جو پریکٹس میں زیادہ استعمال ہوتے ہیں اور ان کا کام بھی اینٹی انفلامیٹری ہوتا ہے۔ تیسرا اور سب سے قدرتی اور مفید طریقہ سالین ڈراپس یا اسپرے ہیں، یعنی نمک والا پانی، جو ناک کی سوزش کو قدرتی طور پر کم کرتا ہے اور ہر عمر کے افراد کے لیے محفوظ ہے۔ اس کے ساتھ بھاپ لینا بھی ایک بہترین طریقہ ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بچوں میں ایک اور وجہ بھی سامنے آتی ہے، ناک کے پیچھے موجود دفاعی غدود جسے لمفیٹک گلینڈ کہا جاتا ہے، بچوں میں اس کا سائز بڑا ہوتا ہے جو ناک کی بندش یا گلے کی خراش کا سبب بن سکتا ہے۔ اگر مدافعتی نظام کمزور ہو تو الرجیز اور انفیکشنز جلد اثر انداز ہوتے ہیں، اس لیے اپنی غذا کو بہتر بنانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی دوا کا ضرورت سے زیادہ یا خود سے استعمال ہرگز تجویز نہیں کیا جاتا کیونکہ یہ خطرناک ہو سکتا ہے اور پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے، اگر ناک کی بندش یا گلے کی خراش بڑھ جائے تو ای این ٹی اسپیشلسٹ سے رجوع کریں، کیونکہ درست تشخیص ہونے کی صورت میں علاج بھی بہتر ہو جاتا ہے۔