بے شُمار لازوال گیتوں کے خالق فیروزنظامی کوبچھڑے50 برس بیت گئے
نورجہاں اور دلیپ کمار کی ایک ساتھ پہلی اورآخری فلم جگنو نے صحیح معنوں میں شُہرت دی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ایم وقار)برصغیر پاک وہند کے عظیم موسیقار فیروز نظامی کواس دُنیاسے رُخصت ہوئے50برس بیت چکے ہیں مگر ان کی ترتیب دی ہوئی دُھنیں آج بھی ان کی موجودگی کااحساس دلاتی ہیں اور مداحوں کے دلوں میں انہیں زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
بےشُمار لازوال گیت فیروزنطامی کے کریڈٹ پرہیں جن میں چاندنی راتیں،تم زندگی کو غم کا فسانہ بنا گئے،یہاں بدلہ وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے،روتے ہیں چھم چھم نین،مُنڈیا سیالکوٹیا،چَن دیا ٹوٹیا وے دلاں دیا کھوٹیا اوردیگر شامل ہیں،وہ کلاسیکل سے لے کر مغربی موسیقی سمیت کئی طرز کی دُھنیں بنانے میں عبور رکھتے تھے۔

10 نومبر1910ء کولاہورکے علاقے اندرون بھاٹی گیٹ میں پیداہونے والے فیروزنظامی چار بھائی تھے اور چاروں بھائیوں نے اپنے اپنے شعبے میں نام کمایا، بڑے بھائی سراج نظامی صحافت اور شاعری سے منسلک تھے، چھوٹے بھائی سلطان ہومیوپیتھک ڈاکٹر تھے، تیسرے بھائی نذر محمد پاکستان کرکٹ ٹیم کے ممتاز کھلاڑی تھے اورآگے چل کر ان کے بیٹے مدثرنذر نے بھی کرکٹ میں بہت نام کمایا۔
فیروز نظامی اسلامیہ کالج ریلوے روڈ سے بی اے آنرز کرنے کے بعد کیرانہ گھرانے کے نامور گلوکار عبدالوحید خان کے باقاعدہ شاگرد ہو گئے تھے، کیرانہ گائیکی کے اصول و ضوابط اور رموز سے واقفیّت حاصل کرنے کے بعد اُستاد سردار خان دہلی والے کے شاگرد ہو گئے، اس کے ساتھ ساتھ لاہور میں جمنے والی موسیقی کی ”بیٹھکوں“ سے بھی فیض حاصل کرتے رہے کیونکہ اس وقت لاہور شہر میں موسیقی کی کئی ”بیٹھکیں“ بہت مشہور تھیں جن میں اُستاد برکت علی خان،پنڈٹ جیون لال مٹّو،سیّد شبیر حسین شاہ،خورشید بٹ، اُستاد سردار خان،بابو معراج دین اور جی اے فاروق کی بیٹھکیں زیادہ معروف تھیں۔

اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں بھی تعلیم حاصل کرنے کے دوران وہاں فیروز نظامی نے ایک اچھّی میوزک سوسائٹی تشکیل دی تھی جسے ایم ڈی تاثیر،پروفیسر سراج الدین آذر، محمود نظامی اورفیض احمد فیض جیسے لوگوں کی سرپرستی بھی حاصل تھی۔
فیروز نظامی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد آل انڈیا ریڈیو لاہور میں بطور پروگرام پروڈیوسر ملازم ہو گئے تھے،پھر آل انڈیا ریڈیو دہلی چلے گئے جہاں خواجہ خورشید انور اورکرشن چندرجیسے نابغہ روزگار بھی ان کے ساتھی تھے،یہ تینوں حضرات کچھ عرصہ بعد ریڈیو چھوڑ کر ممبئی چلے گئے اور وہاں کی فلمی صنعت کا حصّہ بن گئے اورفلموں کی موسیقی ترتیب دینا شروع کر دی۔
بطور موسیقار فیروزنظامی کی پہلی قسم ”وشواس“ 1943ء میں ریلیز ہوئی،اگلے برس ان کی دوسری فلم ”بڑی بات“ریلیز ہوئی جونہ صرف کامیاب رہی بلکہ اس کے گانوں کو بھی بہت پذیرائی ملی،1946ء میں فلم ساز اور ہدایت کار ایس ایم یوسف کی فلم ”نیک پروین“ نے فیروز نظامی کی موسیقی کو پہلی بڑی کامیابی سے ہمکنار کیا جس کی ایک نعت ”تیری ذات پاک ہے اے خدا“ بھی بہت مقبول ہوئی تھی۔
1946ء میں فلم ساز اور ڈائریکٹر شوکت حسین رضوی نے فلم”جگنو“ شروع کی جو نورجہاں اور دلیپ کمار کی ایک ساتھ پہلی اورآخری فلم تھی،اس فلم نے فیروز نظامی کو صحیح معنوں میں شُہرت دی کیونکہ اس کے سارے گانے ہی مقبول ہوئے تھے۔
دلیپ کمار کی پہلی فلم”جوار بھاٹا“اس وقت تک اگرچہ ریلیز ہو چکی تھی لیکن اتنی کامیاب نہیں ہوئی تھی اور”جگنو“نے دلیپ کمار کو دنوں میں مقبول فنکاروں کی صف میں لا کھڑا کیا،اسی فلم میں محمد رفیع اور نورجہاں نے ایک ڈوئٹ ”یہاں بدلا وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے“گایا تھاجو ان دونوں کا ایک ساتھ پہلا اور آخری گانا ثابت ہوا۔
محمد رفیع فیروز نظامی کے باقاعدہ شاگرد بھی تھے، 1943ء سے 1947ء تک یعنی چار برسوں میں فیروز نظامی نے وہاں 10 فلموں کی موسیقی دی،1947ء فیروز نظامی کا ہندوستان میں آخری سال ثابت ہوا کیونکہ فیروز نظامی شوکت حسین رضوی،نورجہاں،انورکمال پاشا اور دوسرے لوگوں کے ساتھ ہندوستان میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کرپاکستان آ گئے اور یہاں نئے سِرے سے فلم انڈسٹری کی بنیاد رکھی۔

1950ء میں فیروز نظامی نے یہاں اپنی پہلی فلم ”ہماری بستی“ کی موسیقی دی،یہ فلم کامیابی حاصل نہ کر سکی لیکن اگلے برس شوکت حسین رضوی کی پنجابی فلم”چن وے“ ریلیز ہوئی جس کی ڈائریکٹر کے طور پر شوکت حسین رضوی نے نورجہاں کا نام دیا تھا،”چَن وے“ کی موسیقی نے ہر طرف دھومیں مچا دیں،اس کا ایک گانا”تیرے مُکھڑے دا کالا کالا تِل وے“ کے ریکارڈ تو بلیک میں فروخت ہوتے رہے تھے،اس کے بعد دوپٹہ، قسمت، راز،سولہ آنے اور منزل جیسی فلموں کی بھی موسیقی دی۔
فلمی موسیقی کے ساتھ ساتھ فیروز نظامی ریڈیو پاکستان کیلئے کلاسیکی موسیقی کی نشریات میں بھی حصّہ لیتے رہے، موسیقی پر انگریزی اخبار”پاکستان ٹائمز“میں کالم بھی لکھتے رہے،پانچ کتابیں بھی لکھیں جن میں فن موسیقی پر کتاب”اسرار موسیقی“کوموسیقی کے حوالے سے ایک مُعتبر کتاب تسلیم کیا جاتا ہے،اس کے علاوہ دو مرتبہ ثقافتی طائفے کے لیڈر کی حیثیت سے افغانستان گئے،1963ء میں ایران کے شہر شیراز میں ہونے والے انٹرنیشنل میوزک سیمینار میں حکومتی وفد کی قیادت کی،آخری سالوں میں صوفی اِزم اورروحانیت کی طرف رُجحان کے بعدایک کتاب”سرچشمہ حیات“ لکھی۔ الحمراء آرٹس کونسل کی میوزک اکیڈمی کے پرنسپل بھی رہے اورموسیقی کے طلبہ کو موسیقی کی باریکیاں سکھاتے رہے۔
یہ بھی پڑھیں:سینئر بھارتی اداکارہ کامنی کوشل چل بسیں
فیروز نظامی 15 نومبر 1975ء کو 65 سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوگئے تھے اور لاہور کے قبرستان میانی صاحب میں آسودہ خاک ہیں،انتقال سے چند روز قبل پنجاب آرٹس کونسل میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے طور پر ان کی تعیناتی ہوئی تھی۔