ٹیکس وصولی کا مقصد ’’پکڑ دھکڑ‘‘ کرنا نہیں :سپریم کورٹ
ایک ہی دن میں اپیل، فیصلہ اور ریکوری نوٹس جاری کرنا انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)سپریم کورٹ نے ٹیکس اتھارٹیز سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے ایف بی آر کا مناسب مہلت کے بغیر ریکوری نوٹس جاری کرنا غیر قانونی قراردے دیا۔
سپریم کورٹ نے ٹیکس اتھارٹیز سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے ایف بی آر کی نہ صرف انٹراکورٹ اپیل خارج کردی گئی بلکہ بغیر مناسب مہلت کے ایف بی آر کا ریکوری نوٹس جاری کرنابھی غیر قانونی قرار دیدیا۔
سپریم کورٹ کی جج جسٹس عائشہ ملک نے 18 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی تھی۔
سپریم کورٹ نےاپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ٹیکس حکام کو سزا دینے والی ایجنسیوں کے طور پر کام نہیں کرنا چاہئے، ٹیکس وصولی کا مقصد ’’پکڑ دھکڑ‘‘ کرنا نہیں ہے، ایک ہی دن میں اپیل،فیصلہ اور ریکوری نوٹس جاری کرنا انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مخصوص نشستوں سے متعلق تحریک انصاف کی درخواست اعتراض کیساتھ واپس
سپریم کورٹ نے نجی کمپنی کے خلاف 2 ارب 92 کروڑ روپے کے انکم ٹیکس ریکوری کا نوٹس معطل کردیا جبکہ دوسری کمپنی پر ایک ارب 88 کروڑ روپے کی ودہولڈنگ ٹیکس وصولی کی کارروائی بھی کالعدم قرار دیدی، دونوں کمپنیوں کے خلاف ریکوری نوٹسز ٹیکس افسر نے اپیل کے دن ہی جاری کئے تھے۔
سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے نوٹسز غیر قانونی قرار دیئے، عدالت کا فیصلے میں کہنا ہے کہ سیکشن 140 کے تحت بینکوں کو فوری ادائیگی کے نوٹس دینا خلاف قانون ہے، ریکوری سے قبل ٹیکس افسر کا اپیل کا فیصلہ ٹیکس گزار کو باقاعدہ موصول ہونا چاہئے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون کے مطابق مناسب وقت دیا جائے گا نہ کہ اسی دن ادائیگی کی شرط ہے، ریکوری سے پہلے قانونی حقوق، شنوائی اور وقار کا تحفظ ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:24 اور 26 نومبر کے 14 مقدمات میں عمر ایوب کی ضمانت خارج ، گرفتار کرنیکا حکم
جسٹس عائشہ ملک نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ کمشنر ان لینڈ ریونیو کا رویہ اختیارات کے آمرانہ استعمال کے مترادف ہے، اس رویئے سے وقار، منصفانہ ٹرائل اور رسائی انصاف متاثر ہوئی۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کمپنیوں سے فوری رقم نکلوانا کاروباری شہرت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے، ایف بی آر کیس میں اپنا مؤقف ثابت کرنے میں ناکام رہی، نوٹس جاری کرنے اور رقوم نکالنے کا عمل خلاف قانون ہے، ٹیکس ریکوری اور شہری حقوق کے درمیان توازن قائم رکھنا لازم ہے۔