سعودیہ میں پرنس سلطان ایئر بیس پر امریکا کے 5 طیارے ایرانی حملے میں تباہ:امریکی اخبار کا انکشاف

Mar 14, 2026 | 09:25:AM
سعودیہ میں پرنس سلطان ایئر بیس پر امریکا کے 5 طیارے ایرانی حملے میں تباہ:امریکی اخبار کا انکشاف
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)سعودی عرب میں قائم ایک اہم فوجی اڈے پر ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں امریکی فضائیہ کے پانچ فضائی ایندھن بردار طیاروں کو نقصان پہنچا ہے، اس بات کا انکشاف امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے کیا ہے۔

امریکی اخبار کی رپورٹ مطابق حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب حالیہ دنوں میں ایران کی جانب سے خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے میزائلوں کی ایک لہر داغی گئی۔

رپورٹ کے مطابق متاثرہ طیارے پرنس سلطان ایئر بیس پر کھڑے تھے، جو سعودی عرب میں امریکی افواج کی میزبانی کرنے والی ایک بڑی فوجی تنصیب ہے،ایرانی میزائل حملے کے دوران یہ طیارے زمین پر موجود تھے اور اسی دوران انہیں نقصان پہنچا۔

یہ بھی پڑھیں:مشرقِ وسطیٰ کشیدگی: آئل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے پھر تجاوز کر گئی

اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ متاثر ہونے والے طیارے بوئنگ کے سی135 اسٹریٹو ٹینکر فضائی ایندھن بردار طیارے ہیں، جو جنگی طیاروں اور بمبار طیاروں کی پرواز کی مدت اور حد بڑھانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق میزائل حملے کے نتیجے میں طیاروں کو نقصان ضرور پہنچا تاہم وہ مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئے اور اس وقت ان کی مرمت کا عمل جاری ہے۔ اس حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

پرنس سلطان ایئر بیس سعودی دارالحکومت ریاض سے 70 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔

یہ واقعہ خطے میں امریکی فضائیہ کو پیش آنے والے حالیہ مسائل کی ایک کڑی بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل دو کے سی–135 طیارے ایک آپریشن کے دوران آپس میں ٹکرا گئے تھے جس کے نتیجے میں ان میں سے ایک طیارہ گر کر تباہ ہوگیا تھا۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے تصدیق کی تھی کہ حادثے میں تباہ ہونے والے طیارے میں سوار تمام چھ اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

تازہ واقعے کے بعد حالیہ دنوں میں نقصان اٹھانے یا تباہ ہونے والے امریکی ایندھن بردار طیاروں کی تعداد کم از کم سات تک پہنچ گئی ہے۔

مزید پڑھیں:  سرحدوں پر جنگ کی صورتحال: مولانا فضل الرحمٰن کا پارلیمنٹ کا ان کیمرا اجلاس بلانے کا مطالبہ

ادھر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب امریکا کی قیادت میں مشرقِ وسطیٰ میں ایرانی تنصیبات اور ایران کے اتحادی گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیاں کی گئیں۔

ان کارروائیوں کے بعد ایرانی افواج نے خطے میں تعینات امریکی اڈوں اور اثاثوں پر جوابی حملے شروع کر دیئے۔

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں اور جوابی حملوں کے بڑھتے ہوئے سلسلے نے خطے میں وسیع تر جنگ کے خدشات کو بڑھا دیا ہے، جس کے باعث خلیجی ممالک میں واقع فوجی تنصیبات کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔