بنگلہ دیش کے کسان نے جرمنی کا سات کلومیٹر طویل کپڑے کا پرچم کیوں بنا ڈالا؟ حیران کن انکشاف 

Jun 14, 2026 | 20:37:PM
بنگلہ دیش کے کسان نے جرمنی کا سات کلومیٹر طویل کپڑے کا پرچم کیوں بنا ڈالا؟ حیران کن انکشاف 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) جرمنی کی دوا سے شفا پانے والے بنگلہ کسان نے ورلڈ کپ میں جرمنی کو سپورٹ کرنے کے لئے  جرمنی کا سات کلومیٹر طویل پرچم بنا ڈالا۔ اس پرچم کے لئے کپڑا خریدنے کے لئے کسان کو اپنی کچھ زمین بھی بیچنا پڑ گئی۔ 

 بنگلہ دیش میں فٹبال کے بیشتر فین برازیل اور ارجنٹینا کی حمایت میں اپنے گھروں اور چھتوں پر جھنڈے آویزاں کرتے ہیں، لیکن جنوبی ضلع مگورا کے ایک 72 سالہ کسان نے اپنی منفرد پسند اور غیر معمولی جذبے سے سب کو حیران کر دیا ہے۔

امجد حسین نامی کسان نے جرمن قومی فٹ بال ٹیم سے اپنی محبت کے اظہار کے لیے اپنی زمین پر سیاہ، سرخ اور زرد رنگوں پر مشتمل جرمنی کا ایک دیوہیکل پرچم بچھا دیا ہے، جس کی لمبائی تقریباً ساڑھے 7 کلومیٹر ہے۔

یہ پرچم سرسبز کھیتوں کے درمیان دور تک پھیلا ہوا ایک دلکش منظر پیش کرتا ہے اور ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل مقامی لوگوں اور فٹ بال شائقین کی توجہ کا مرکز بن گیا۔

 ادوا نے جرمنی کا احسان مند بنایا، اولیور کاہن سے متاثر ہو کر جرمن فٹبال ٹیم کا مداح بنا
 اے ایف پی سے  انٹرویو میں امجد حسین نے کہا کہ وہ جرمن فٹ بال ٹیم سے بے حد محبت کرتے ہیں اور ان کے نزدیک جرمنی کے لیجنڈری گول کیپر اولیور کاہن تاریخ کے عظیم ترین گول کیپر ہیں۔

امجد کبھی جرمنی نہیں گئے، تاہم اس ملک سے ان کی محبت ایک دلچسپ واقعے کے بعد پیدا ہوئی۔’میں 2004 اور 2005 میں شدید بیمار تھا اور ایک جرمن دوا نے مجھے صحت یاب کیا۔ اس کے بعد سے مجھے جرمنی اور اس کی فٹ بال ٹیم سے محبت ہو گئی‘۔

یہ بھی پڑھیں:  تونسہ میں پولیس چیک پوسٹ پر خودکش حملہ کے بعد انکاؤنٹر، تین دہشت گرد جہنم واصل، دو پولیس جوان شہید

امجد حسین نے بتایا کہ انہوں نے 2006 کے ورلڈ کپ، جس کی میزبانی جرمنی نے کی تھی، کے موقع پر پہلی بار ڈیڑھ کلومیٹر طویل پرچم تیار کروایا تھا۔

اس کے بعد ہر ورلڈ کپ میں وہ اس پرچم کی لمبائی میں اضافہ کرتے رہے۔ بعض اوقات انہوں نے اس شوق کو پورا کرنے کے لیے اپنی زمین کے کچھ حصے بھی فروخت کیے تاکہ مزید بڑا پرچم تیار کر سکیں اور شائقین کے لیے میچ دیکھنے کی تقریبات منعقد کر سکیں۔

لوگ پاگل کہتے ہیں، مگر خاندان ساتھ کھڑا ہے
امجد حسین کا کہنا ہے کہ ان کے اس غیر معمولی شوق پر بعض لوگ انہیں پاگل بھی قرار دیتے ہیں، تاہم ان کی اہلیہ اور دیگر اہلِ خانہ نے ہمیشہ ان کا ساتھ دیا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ ’ میری بیوی اور خاندان کے دوسرے افراد نے کبھی ناراضی کا اظہار نہیں کیا، حالانکہ کچھ لوگ میرے اس جذبے کو دیوانگی سمجھتے ہیں‘۔

جرمن فین کلب کی تاحیات رکنیت
 بنگلہ دیش کی ٹیم فیفا عالمی درجہ بندی میں 181 ویں نمبر پر ہے اور کبھی ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکی۔ اس کے باوجود بنگلہ دیش میں فٹ بال بنگلہ دیش میں مقبول کھیل ہے،  اور لوگ فٹبال کھیل بھلے ہی نہ سکیں، کوشش ضرور کرتے ہیں۔

امجد حسین کی جرمن ٹیم سے  غیر معمولی وابستگی کو سراہتے ہوئے جرمن فٹ بال مداحوں کے ایک کلب نے انہیں تاحیات رکنیت بھی عطا کر رکھی ہے۔

مزید پڑھیں: تونسہ میں پولیس چیک پوسٹ پر خودکش حملہ کے بعد انکاؤنٹر، تین دہشت گرد جہنم واصل، دو پولیس جوان شہید 

ایک خواب ابھی باقی ہے
جرمنی ورلڈ کپ مہم کا آغاز اتوار کو کرے گا۔  امجد حسین  کو یقین ہے کہ جرمنی ایک بار پھر عالمی چیمپئن بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم ان کا سب سے بڑا خواب ابھی پورا ہونا باقی ہے۔

امجد حسین نےمسکراتے ہوئے کہا کہ’میں چاہتا ہوں کہ میرا  بنایا ہوا یہ پرچم کسی دن جرمنی کے کسی عجائب گھر میں رکھا جائے اور میں خود بھی اپنی پسندیدہ ٹیم کا میچ میدان میں بیٹھ کر دیکھ سکوں۔ مجھے امید ہے کہ ایک دن یہ خواہش ضرور پوری ہوگی۔