نورسحر میں’’بدگوئی سے اجتناب: کامیاب معاشرے کی بنیاد‘‘ بصیرت افروز علمی نشست کا انعقاد
سابق جسٹس نذیر احمد غازی نے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا کہ خوش گفتاری اللہ تعالیٰ کا خاص انعام ہے جو ہر کسی کو عطا نہیں ہوتا،ایک سچا مسلمان وہی ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)معروف ٹی وی پروگرام "نورِ سحر" میں ایک بصیرت افروز علمی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک کے ممتاز اسلامی اسکالرز اور محققین نے "بدگوئی سے اجتناب: کامیاب معاشرے کی بنیاد" کے موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔
پروگرام کے میزبان سابق جسٹس نذیر احمد غازی نے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا کہ خوش گفتاری اللہ تعالیٰ کا خاص انعام ہے جو ہر کسی کو عطا نہیں ہوتا۔
اُنہوں نے کہا کہ ایک سچا مسلمان وہی ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ زبان کے زخم تلوار کے زخموں سے زیادہ گہرے ہوتے ہیں، اور محبت سے کی گئی بات دل میں اُتر جاتی ہے، جب کہ نفرت سے کی گئی گفتگو دل سے اتار دیتی ہے۔
ڈاکٹر مفتی محمد یونس رضوی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بدگوئی آج کے دور کی سب سے بڑی اخلاقی برائیوں میں شامل ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب انسان علم، بصیرت اور برداشت سے خالی ہوتا ہے تو بدگوئی اس کا سب سے آسان ہتھیار بن جاتی ہے۔
انہوں نے حدیثِ مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: "چھ باتوں کی ضمانت دو، میں تمہیں جنت کی ضمانت دوں گا"، جن میں سچ بولنا بھی شامل ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ بدگوئی، جھوٹ اور ناشکری وہ اعمال ہیں جو گھروں سے برکت ختم کر دیتے ہیں۔
پروفیسر میاں مستفیض احمد نقشبندی نے کہا کہ نیک اعمال انسان کو فرشتوں کی صف میں لا کھڑا کرتے ہیں۔
اُنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حتیٰ کہ مشرکین کے معبودوں کو بھی گالی دینے سے منع فرمایا تاکہ ردِعمل میں اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی نہ ہو۔
انہوں نے ایک سائنسی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اچھی یا بری گفتگو فضا میں توانائی کی صورت میں محفوظ ہو جاتی ہے، اور تاریخ کی کئی جنگیں صرف بد زبانی اور غلط بیانی کے سبب شروع ہوئیں۔
علامہ نبی گل قادری نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے زبان کو انسان کے لیے سب سے خطرناک چیز قرار دیا۔
انہوں نے پیر سیال رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ بچوں کو درسِ حدیث دیا کرتے تو حضرت سیدہ فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا کا ذکر آنے پر بچوں کو وضو کرواتے، حالانکہ وہ باوضو ہوتے، کیونکہ آپ ادبِ مصطفیٰ و اہلِ بیت کا غیر معمولی لحاظ رکھتے تھے۔