ہر تین ماہ بعد وٹامن ڈی لیول چیک کرواناچاہیے: ڈاکٹر سحر چاولہ
وٹامن ڈی جلد کی اینٹی ایجنگ کے لیے بھی نہایت اہم ہے،’’مارننگ ودفضا‘‘میں گفتگو
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) معروف ماہرِ غذائیات ڈاکٹر سحر چاولہ نے 24نیوز کے مارننگ شو’’ مارننگ ود فضا‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ہے کہ وٹامن ڈی انسانی صحت کے لیے نہایت اہم ہے۔
24نیوز کے مارننگ شو’’ مارننگ ود فضا‘‘ میں میزبان فضاعلی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے معروف ماہرِ غذائیات ڈاکٹر سحر چاولہ نےبتایا کہ سورج سے وٹامن ڈی کا فائدہ تبھی حاصل ہوتا ہے جب دھوپ براہِ راست جلد پر پڑے، اگر تقریباً 40 منٹ تک دھوپ براہِ راست سکن پر پڑے تو یہ تقریباً 20 ہزار انٹرنیشنل یونٹس کے برابر وٹامن ڈی فراہم کرتی ہے، جو ایک صحت مند انسان کے لیے ضروری مقدار ہے۔
ڈاکٹر سحر کے مطابق دنیا بھر میں لاکھوں افراد وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہیں، جینیاتی طور پر بعض افراد (Gene Polymorphism) وٹامن ڈی کو کم جذب کرتے ہیں جبکہ موٹاپے، ایکنی، سورائسِس اور ہائپر تھائروازم (Hyperthyroidism) جیسی بیماریوں میں بھی وٹامن ڈی کی کمی نمایاں کردار ادا کرتی ہے، اگر کسی شخص کا مدافعتی نظام کمزور ہو تو اس کی ایک بڑی وجہ وٹامن ڈی کی کمی ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر سحر چاولہ ے بتایا کہ وٹامن ڈی سپلیمنٹ یا انجیکشن کے ذریعے بھی لیا جا سکتا ہے، قدرتی طور پر وٹامن ڈی زیادہ تر چکنی مچھلیوں جیسے سالم، میکریل، بلیک کوڈ، رین بو ٹراؤٹ میں پایا جاتا ہے، اسی طرح آرگینک ڈیری مصنوعات، انڈے کی زردی، دیسی گھی، ناریل کا تیل، دہی، بکرے کی کلیجی اور گردے بھی وٹامن ڈی کے اچھے ذرائع ہیں۔
ڈاکٹر سحر چاولہ نے بتایا کہ ہر مہینے ایک انجیکشن لگوانا بہتر رہتا ہے، بڑی لیبارٹریوں میں کیے گئے ٹیسٹ اگر 14، 15، 17 یا 20 کے لیول دکھا رہے ہوں تو یہ نارمل نہیں ہے، 25 سے 30 سال سے زائد عمر کے افراد میں وٹامن ڈی کا لیول 40 سے اوپر ہونا چاہیے،اگر جسم میں میگنیشیم کی کمی ہو تو وٹامن ڈی جذب نہیں ہو پاتا،وٹامن ڈی کی کمی سے بخار، بار بار انفیکشن، پٹھوں میں کھچاؤ، کمر درد، ہڈیوں اور جوڑوں میں اکڑاؤ، دائمی تھکاوٹ، نیند کی کمی، بے چینی اور پینک اٹیک جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، ہر انسان کو چاہیے کہ وہ تین ماہ بعد اپنا وٹامن ڈی لیول چیک کروائے۔
یہ بھی پڑھیں:’اب سب اوپر والے کے ہاتھ میں ہے‘ دھر میندر کی اہلیہ کا تشویشناک بیان
ڈاکٹر سحر چاولہ کے مطابق وٹامن ڈی کا انجیکشن گولی یا ڈراپس کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہے کیونکہ گولیوں یا مائع سپلیمنٹس کا تقریباً 50 فیصد حصہ معدے میں ضائع ہو جاتا ہے،اگر ماں کے جسم میں وٹامن ڈی کی کمی ہو تو بچے میں بھی اس کی کمی ہو جاتی ہے، بچے کی پیدائش کے دوران وہ ماں کے جسم کا تقریباً 80 فیصد کیلشیم جذب کر لیتا ہے، جس کے باعث ماؤں میں ہڈیوں کی بیماری آسٹیوپوروسس پیدا ہو سکتی ہے۔
انہوں نے مزیدکہاکہ موٹی خواتین کے بچے کمزور پیدا ہوتے ہیں کیونکہ ان کے جسم میں وٹامن ڈی کی کمی زیادہ ہوتی ہے، وٹامن ڈی کی کمی سے لوئر بیک پین، سکن ڈرائی ہونا، جلد پر جھریوں کا جلد ظاہر ہونا، ایگزیما، سورائسِس اور ایکنی جیسے امراض بھی پیدا ہوتے ہیں، وٹامن ڈی جلد کی اینٹی ایجنگ کے لیے بھی نہایت اہم ہے۔