آزاد کشمیر  کے سینئیر وکلا بھی کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی لاقانونیت کے خلاف بول پڑے

Jun 13, 2026 | 23:20:PM
 آزاد کشمیر  کے سینئیر وکلا بھی کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی لاقانونیت کے خلاف بول پڑے
کیپشن: فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)  دیگر مکاتب فکر کی طرح کشمیر کے قانون دانوں اور وکلاء کی برادری نے بھی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے پرتشدد احتجاج کو غلط قرار دے دیا اور بتایا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے لیڈر سنگین جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر راجہ آفتاب احمد ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ  ریاست کا امن تباہ کرنے میں ملوث عناصر کو فوری طور پر ہتھیار ڈال کر خود کو قانون کے حوالے کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا،  مسلح حملوں، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور انسانی جانوں کے ضیاع میں ملوث افراد کو قانون کے سامنے جوابدہ ہونا ہوگا۔ آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ایسے افراد کو آزاد کشمیر کی عدالتوں میں قانونی معاونت فراہم کرے گی، بشرطیکہ وہ خود کو قانون کے حوالے کریں۔ 

 راجہ آفتاب احمد ایڈووکیٹ نے مزید کہا،  ریاست کے خلاف برسرِ پیکار اور ریاستی عملداری کو چیلنج کرنے والے عناصر  انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔  جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے شرپسند سنگین جرم کے مرتکب بھی ہو رہے ہیں۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مذکورہ عمل سنگین جرم ہے  جو غداری کے مترادف ہے، قرار دیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق  آزاد کشمیر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا بیان عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے پرتشدد احتجاج کو مسترد کرتا ہے۔ وکلا کی جانب سے عوامی ایکشن کمیٹی کے عمل کو بغاوت کہنا ثابت کرتا ہے کہ یہ عناصر غلط راہ پر گامزن ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ریاست اپنی رٹ قائم کرے گی، کالعدم ایکشن کمیٹی کال آف کرے، تب بات کریں گے: وزیر اعظم آزاد کشمیر