پاکستانی ٹیم ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ مہم کا آغاز کل بھارت کیخلاف میچ سے کریگی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 ںیوز ) آئی سی سی ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم اپنی مہم کا آغاز کل 14 جون کو روایتی حریف بھارت کے خلاف کرے گی۔ یہ ہائی وولٹیج مقابلہ برمنگھم کے تاریخی ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا۔
انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے زیر اہتمام 12 جون سے 5 جولائی تک جاری رہنے والا یہ ایونٹ ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹورنامنٹ ہے، جس میں پہلی بار 12 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ مجموعی طور پر 33 میچز 7 مختلف وینیوز پر کھیلے جائیں گے جبکہ فائنل 5 جولائی کو لندن کے لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں ہوگا۔
پاکستان ٹیم کو گروپ ون میں رکھا گیا ہے، جہاں اس کا مقابلہ 6 مرتبہ کی چیمپیئن آسٹریلیا، بھارت، جنوبی افریقہ، بنگلہ دیش اور نیدرلینڈز سے ہوگا۔ گروپ ٹو میں میزبان انگلینڈ، دفاعی چیمپیئن نیوزی لینڈ، ویسٹ انڈیز، سری لنکا، آئرلینڈ اور اسکاٹ لینڈ شامل ہیں۔ دونوں گروپس کی ٹاپ دو ٹیمیں سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کریں گی، جو 30 جون اور 2 جولائی کو کھیلے جائیں گے۔
قومی ٹیم کی قیادت نوجوان آل راؤنڈر فاطمہ ثنا کر رہی ہیں، جو مسلسل دوسرے ٹی20 ورلڈ کپ میں کپتانی کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ وہ حالیہ عرصے میں شاندار فارم میں ہیں اور گزشتہ ماہ زمبابوے کے خلاف سیریز میں صرف 15 گیندوں پر نصف سنچری بنا کر ویمنز ٹی20 انٹرنیشنل کی تیز ترین ففٹی کا عالمی ریکارڈ بھی قائم کر چکی ہیں۔
پاکستان اسکواڈ میں نوجوان اور تجربہ کار کھلاڑیوں کا امتزاج موجود ہے۔ ایمن فاطمہ، رامین شمیم اور سائرہ جبیّن پہلی بار ورلڈ کپ میں حصہ لے رہی ہیں، جبکہ منیبہ علی صدیقی، عالیہ ریاض، ڈیانا بیگ، نشرہ سندھو، سعدیہ اقبال اور طوبیٰ حسن ٹیم کا اہم حصہ ہیں۔
منیبہ علی صدیقی پاکستان کی جانب سے ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والی بیٹر ہیں، جبکہ نشرہ سندھو ایونٹ میں پاکستان کی سب سے کامیاب بولر ہیں۔
ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے پاکستان ٹیم نے جنوبی افریقہ اور زمبابوے کے خلاف سیریز، آئرلینڈ میں سہ فریقی سیریز اور حالیہ وارم اپ میچز بھی کھیلے ہیں۔
مینٹور وہاب ریاض نے ٹیم پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کھلاڑیوں نے بھرپور محنت کی ہے اور اگر ٹیم بے خوف اور مثبت کرکٹ کھیلے تو سیمی فائنل تک رسائی ممکن ہے۔
پاکستان کا گروپ مرحلے میں شیڈول یہ ہے: بھارت (14 جون)، جنوبی افریقہ (17 جون)، بنگلہ دیش (20 جون)، آسٹریلیا (23 جون) اور نیدرلینڈز (27 جون)۔
یہ بھی پڑھیں :سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پنشن کس طرح بڑھے گی؟