وزیراعظم کی معاشی ٹیم کی محنت اور کاوشوں سے بدعنوانی میں نمایاں کمی آئی:محمد اورنگزیب
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین کے اثاثے پبلک کرنے سے متعلق قانون سازی کر چکے ہیں، آئی ایم ایف نے سرکاری ملازمین کے اثاثے سامنے لانے کا کہا ہے، یہ اضافی شرط نہیں عملی اقدام ہے۔
لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگلے سال کا بجٹ ایف بی آر نہیں پالیسی ساز بنائے گا، ہر سیکٹر ایکسپورٹ کرے، ہم خدمت کے لیے حاضر ہیں۔
محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاسکو کو ہم بند کر رہے ہیں، یہ ادارہ کرپشن کا گڑھ تھا، فاٹا پاٹا میں مال فروخت نہیں ہورہا، واپس آرہاہے اور یہاں فروخت ہو رہا ہے، اچھے اقدامات کو سراہیں، ملک چلے گا، معیشت چلے گی اور ملک کو آگے لے کر جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ فارمل سیکٹر نے ہمیں کہا ہے کہ نان کمپلائنس سیکٹر کے پیچھے جائیں، پرائیویٹ سیکٹر کو ملک کو لیڈ کرنا ہوگا، نوکریاں پیدا کرنا سرکار کا کام نہیں ، یہ کام پرائیویٹ سیکٹر کا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسٹارٹ اپس اور نوجوان کاروباری افراد کے لیے سازگار ماحول حکومت کی ترجیح ہے، ڈیجیٹل معیشت اور ای کامرس سے کاروباری سرگرمیوں میں وسعت آئی، ٹیکس نیٹ میں توسیع، ٹیکس دہندگان کو سہولت دینے کا اعتماد بڑھا، خود کار نظام سے ٹیکس وصولی میں شفافیت اور اعتماد میں اضافہ خوش آئند ہے۔
یہ بھی پڑھیں:جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی کا جبری گمشدگیوں کے مقدمات پر مؤثر ادارہ جاتی ردعمل پر اتفاق
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم کی معاشی ٹیم کی محنت اور کاوشوں کی بدولت بدعنوانی میں نمایاں حد تک کمی آئی، این ایف سی ایوارڈ پر پچھلے ہفتے اجلاس ہوا، سرمایہ کاروں اور تاجروں کا اعتماد بحال ہونے سے بزنس کو فروغ ملا، چاروں صوبائی وزرائے خزانہ سے بہت اچھے ماحول میں بات ہوئی۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ این ایف سی کے 8 گروپ میں سے 2 وفاق اور 6 صوبوں کے پاس ہیں، اگلے سال کا بجٹ ایف بی آر نہیں بنائے گا، کراچی چیمبر کی طرح لاہور میں بھی ریسرچ سیل بنائیں، مہنگائی ابھی قابو میں ہے، قومی ایئر لائن کی نیلامی 23 دسمبر کو ہو گی۔