افغان پناہ گزینوں کے جرمنی میں جرائم ، ملک بدری کےا قدام میں تیزی آگئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)جرمنی میں جرائم میں ملوث افغان پناہ گزینوں کی ملک بدری کے لیے طالبان حکومت کے ساتھ معاہدہ حتمی مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق جرمن وزیرِ داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنڈٹ نے ہفتے کو ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ کابل کے ساتھ مذاکرات انتہائی پیش رفت کے مرحلے” میں ہیں اور جلد باضابطہ معاہدہ طے پانے کی امید ہے۔
ڈوبرنڈٹ نے بتایا کہ حکومت باقاعدہ ملک بدری پروازوں کا آغاز کرنا چاہتی ہے، جو صرف چارٹر فلائٹس تک محدود نہیں ہوں گی بلکہ تجارتی پروازوں کے ذریعے بھی ممکن ہوں گی۔
وزیراعظم فریڈرِخ میرٹز، جو مئی میں اقتدار میں آئے، نے اقتدار سنبھالتے ہی اعلان کیا تھا کہ جرائم میں ملوث افغان پناہ گزینوں کو تیزی سے ملک بدر کیا جائے گا۔
تاہم یہ پالیسی اس وجہ سے متنازع ہے کہ ہیمبرگ نے کابل میں طالبان حکومت کو باضابطہ تسلیم نہیں کیا۔
مزید پڑھیں:افغانستان کو پاکستان کی 44 سالہ خدمات کو تسلیم کرنا چاہیے: حنیف عباسی
جرمنی نے 2021 کے بعد سے دو ملک بدری پروازیں کی ہیں، جولائی 2025 میں 81 افغان شہریوں کو واپس بھیجا گیا جبکہ گزشتہ سال 28 افراد کو ملک بدر کیا گیا۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق، گزشتہ ہفتے طالبان حکام کے ساتھ کابل میں ’تکنیکی مذاکرات‘ بھی ہوئے تاکہ آئندہ پروازوں کے لیے عملی انتظامات طے کیے جا سکیں۔
ڈوبرنڈٹ نے کہا کہ وہ اس عمل کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے، حتیٰ کہ خود کابل جانے کے لیے بھی تیار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اسی نوعیت کا معاہدہ شام کے ساتھ بھی کرنے کی کوشش کریں گے۔
یاد رہے کہ کئی یورپی ممالک نے صدر بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شامی شہریوں کی پناہ کی درخواستیں منجمد کر دی تھیں۔